سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 372
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 352 ہوتی ہے کہ نمازوں کی ادائیگی میں تو بظاہر باپ بڑا اچھا ہوتا ہے لیکن بیوی اور بچوں کے ساتھ اس کے سلوک کی وجہ سے بچے نہ صرف باپ سے دور ہٹ جاتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے باپ کو اس کی نمازوں نے اتنا خشک مزاج اور سخت طبیعت کا کر دیا ہے اور وہ نمازیں پڑھنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ یا اگر انکاری نہیں ہوتے تو نہ پڑھنے کے سو بہانے تلاش کرتے ہیں۔ ایسی نمازیں ادا ہوں جو ہر قسم کے اخلاق کو مزید صیقل کرنے والی ہوں پس نمازوں کی حفاظت اور اس کا حق ادا کرنا یہ بھی ہے کہ ایسی نمازیں ادا ہوں جو ہر قسم کے اخلاق کو مزید صیقل کرنے والی ہوں۔ بیویوں کے بھی حقوق ادا ہو رہے ہوں اور بچوں کے بھی حقوق ادا ہو رہے ہوں۔ چالیس سال کی عمر جیسا کہ میں نے کہا بڑی پختگی کی عمر ہے لیکن اس عمر میں اگر ہم جائزے لیں تو بہت سے ایسے لوگ نکل آئیں گے جو اپنی نمازوں کی بھی حفاظت نہیں کرتے ، اپنے فرائض کو ادا نہیں کر رہے ہوتے ، تو پھر اپنے بچوں سے کس طرح امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ نیکیوں پر قائم ہوں۔ یا ان کی کیا ضمانت ہے کہ وہ احمدیت کے ساتھ جڑے رہیں گے۔ فرائض نمازوں کے ساتھ تہجد اور نوافل کی طرف بھی توجہ دو ہم اپنے شہداء کا ذکر سنتے ہیں۔ ایک چیز خصوصیت سے ان میں نظر آتی ہے۔ عبادت اور ذکر الہی کی طرف توجہ ۔ جس طبقہ کے لوگ بھی تھے ان کی اس طرف توجہ تھی اور اپنے بچوں سے انتہائی پیار کا تعلق اور ان کو دین سے جوڑے رکھنا۔ اور بچوں پر بھی ان کی باتوں کا ایک نیک اثر تھا۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جو انصار اللہ ہونے کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ پس میں پھر انصار الله سے کہتا ہوں کہ اگر وہ انصار اللہ کا حق ادا کرنے والے بننا چاہتے ہیں تو اپنی نمازوں اور اپنی عبادتوں کی نہ صرف خود حفاظت کریں بلکہ اس کا حق اپنی نسلوں میں عبادت کرنے والے پیدا کر کے ادا کریں۔ پھر آپ نے اپنی شرائط بیعت میں اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ فرائض نمازوں کے ساتھ تہجد اور نوافل کی طرف بھی توجہ دو۔ پینسٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ کر تو شاید ایک تعداد تہجد پڑھتی بھی ہو اور ان کو خیال بھی آجاتا ہو۔ لیکن انصار کی جو ابتدائی عمر ہے اس میں بھی تہجد کی