سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 363

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 343 يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت : 3) کیا اس زمانے کے لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کا یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں کافی ہو گا اور وہ چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟ پھر فرماتا ہے وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ (العنکبوت: 4) جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ے ہیں ان کو بھی ہم نے آزمایا تھا اور اب بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔ سو اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا ان کو بھی جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جنہوں نے جھوٹ بولا۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنے کے لئے آزماتا ہے۔ کبھی کسی قسم کے امتحان سے گزارتا ہے اور کبھی کسی اور قسم کے امتحان سے گزارتا ہے۔ یہ امتحان ایمان میں جو مضبوط لوگ ہیں ان کے تعلق میں اضافہ کرتا ہے۔ ان کا مضبوط ایمان بڑھا دیتا ہے اور جو کمزور اور معترض ہیں جو کہ کسی نہ کسی رنگ میں اعتراض میں مصروف رہتے ہیں، وہ لوگ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض ہوتے ہیں۔ چھوٹے عہدے داروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔ بڑے عہدے داروں پر اعتراض ہوتے ہیں اور پھر یہ اعتراض جو شروع ہوتے ہیں تو بڑھتے بڑھتے ان لوگوں کے ایمان کے لئے بھی خطرہ اور ابتلا بن جاتے ہیں اور اگر اللہ کا خاص فضل نہ ہو تو پھر بعضوں پہ ایک صورت ایسی بھی آجاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قائم کر دہ جماعت کی صداقت پر ہی شک کرنے لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح مخالفین کی طرف سے تکالیف اور دشمنیاں کمزور ایمان والوں کو ابتلاؤں میں ڈال دیتی ہیں۔ پس مومن کا امتحان اس کو مزید صیقل کرنے کے لئے ہے۔ اس کو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے کے لئے ہے اور مین حيث الجماعت، جماعت کے لئے کامیابی کے نئے راستے کھولنے کے لئے ہے، نہ کہ مغلوب کرنے کے لئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ "جو لوگ خدائی امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں پھر ان کے واسطے ہر طرح کے آرام و آسائش رحمت اور فضل کے دروازے کھول 66 دیئے جاتے ہیں۔ “ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 460 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)