سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 349
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 329 بدعات اور بد رسومات سے بچنے کے لئے جماعتی روایات اور ہدایات کی مکمل پابندی کروائیں ” میں نے شادی بیاہ کی رسموں کے بارہ میں اپنے 15 جنوری 2010ء کے خطبہ جمعہ میں جن امور کا ذکر کیا تھا ان کی پابندی کروائیں۔ مہندی کی رسمیں گھر کی چار دیواری میں سہیلیوں کی حد تک کرنے کی جو اجازت میں نے دی ہے ، اس میں ہر جگہ یہ مد نظر رہے کہ آوازیں اتنی زیادہ اونچی نہ ہوں کہ گھر سے باہر نکلیں۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ آجکل ڈیک بھی اس کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ کے گیتوں وغیرہ کے لئے کوئی ساؤنڈ سسٹم استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ گھر سے آواز باہر نہیں نکلنی چاہیے۔ اسی طرح روشنیوں کا بلاوجہ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ بعض دوسری بد رسوم جیسے دودھ پلانا اور جوتی چھپانا وغیرہ جو ہیں یہ بھی سب ختم کروائیں اور ہر فرد جماعت کو اس بارہ میں متنبہ کر دیں کہ آئندہ اگر مجھے کسی کی بھی ان رسموں کے بارہ میں کوئی شکایت آئی تو اس کے خلاف تعزیری کارروائی ہو گی۔ جماعتی عہدیداران بھی میری ان ہدایات کے ذمہ دار ہیں۔ اگر کہیں کوئی ایسی شادی ہو تو ان کی پابندی کروائیں ورنہ وہاں سے اُٹھ کے آجائیں۔ پہلے شوریٰ میں بھی ان امور پر غور و فکر کے بعد سفارشات آتی رہی ہیں لیکن اب ان سب باتوں کی بلا تفریق پوری طرح سے پابندی ضروری ہے اور یہ کام ذیلی تنظیموں کا بھی ہے اور جماعتی نظام کا بھی کہ ہر حال میں بدعات اور بد رسومات سے بچنے کے لئے جماعتی روایات اور ہدایات کی مکمل پابندی کروائیں۔ اللہ توفیق دے۔ آمین۔“ ( خط بنام صدر مجلس انصار اللہ پاکستان 22 جنوری 2010ء بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ اپریل 2010ء)