سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 34

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 14 نظام جماعت کی ، عہدیداران کی اطاعت کرو ہمیشہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ جو بھی صورت حال ہو ہمیشہ صبر کرنا ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ صبر ہمیشہ حق تلفی کے احساس پر ہی انسان کو ہوتا ہے۔ اب یہاں احساس کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اکثر جس کے خلاف فیصلہ ہو اس کو یہ خیال ہو تا ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہوا ہے اور میر احق بنتا تھا۔ تو یہ خیال دل سے نکال دیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نیچے سے لے کر اوپر تک سارا نظام جو ہے غلط فیصلے کرتا چلا جائے اور یہ بد ظنی پھر خلیفہ وقت تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر ہر احمدی کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان رہے کہ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ، فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تأويلا (النساء: 60) اس کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔ اور اگر تم کسی معاملہ میں (اُولُوالامر سے) اختلاف کرو تو ایسے معاملے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دیا کرو اگر (فی الحقیقت) تم اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ یہ بہت بہتر (طریق) ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔ تو سوائے اس کے کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے جہاں واضح شرعی احکامات کی خلاف ورزی کے لئے تمہیں کہا جائے، اللہ اور رسول کی اطاعت اسی میں ہے کہ نظام جماعت کی، عہدیداران کی اطاعت کرو، ان کے حکموں کو ، ان کے فیصلوں کو مانو۔ اگر یہ فیصلے غلط ہیں تو اللہ تمہیں صبر کا اجر دے گا۔ کیونکہ تم یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ پر معاملہ چھوڑو۔ تمہیں اختیار نہیں ہے کہ اپنے اختلاف پر ضد کرو۔ تمہارا کام صرف اطاعت ہے، اطاعت ہے،اطاعت ہے۔ 66 (خطبه جمعه فرموده 22 اگست 2003ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 1 صفحہ 260-261)