سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 324 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 324

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 304 عہدہ ۔۔۔ خدمت ہے خدمت کا تصور پیدا ہو گا تو صحیح طور پر خدمت ہو سکے گی ایک مرتبہ ابو ذر غفاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے دو لڑکوں کو لے جا کر یہ سفارش کی کہ ان کا بھی یہ خیال ہے اور مجھے بھی یہی خیال ہے کہ زکوۃ کی وصولی پر ان کو لگایا جائے۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوذر جسے عہدہ کی خواہش ہو ہم اسے عہدہ نہیں دیتے۔ (صحیح مسلم کتاب الامارة باب النهى عن طلب الامارة حديث 4717) جب خدا دیتا ہے تو پھر توفیق دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی مدد بھی کرتا ہے۔ اس خواہش کے بغیر کوئی شخص کسی بھی خدمت پر مامور کیا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے کہ اس کی مدد بھی کرے اور اس میں برکت بھی ڈالے۔ فرمایا کہ جب مانگ کر لیا جائے تو پھر کام جو ہے وہ حاوی کر دیا جاتا ہے۔ ؟ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، ٹھیک ہے تم نے مانگ کے کام لیا، تم سمجھتے ہو میں اس کا اہل ہوں، تمہاری آگے آنے کی بڑی خواہش تھی تو پھر یہ ساری ذمہ داریاں نبھاؤ۔ میں دیکھوں تم کس حد تک نبھاتے ہو ؟ پس عہدے کی خواہش جو ہے اس میں نفس پسندی کا دخل ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات بالکل پسند نہیں کہ انسان اپنے نفس کا زیادہ سے زیادہ اظہار کرے۔ آج بھی بعض دفعہ جماعت میں جن جگہوں پر ، جن جماعتوں میں تربیت کی کمی ہے، جن لوگوں میں تربیت کی کمی ہے وہ اب عہدے کی خواہش کرتے ہیں۔ اور بعض دفعہ علم نہ ہونے کی وجہ سے بعض جگہوں پہ جب جماعتی انتخابات ہوتے ہیں اپنے آپ کو ووٹ بھی دے لیتے ہیں۔ تو بہر حال اب تو اللہ کے فضل سے کافی حد تک جماعت کے افراد کو سوائے ایک آدھ کے جو نیا ہو ، ان باتوں کا، قواعد کا علم ہو چکا ہے۔ اپنے آپ کو ووٹ دینے کی پابندی اس لئے جماعت میں ہے کہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عہدے کی خواہش نہ کرو۔ اپنے آپ کو ووٹ دینے کا مطلب ہے کہ میں اس عہدے کا اہل ہوں اور میرے سے زیادہ کوئی اہل نہیں ہے اس لئے مجھے بنایا جائے۔