سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 3

پیش لفظ مجلس انصاراللہ کے بانی سیدنا حضرت المصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: وو یاد رکھو تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مدد گار۔ گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ از لی اور ابدی ہے۔ اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ابدیت کے مظہر ہو جاؤ۔ تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم رکھتے چلے جاؤ اور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاوے۔۔۔ اگر تم نے خلافت کو قائم رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں تباہ نہیں کر سکے گی۔“ افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ مرکز یہ 1956ء) انصاراللہ مذکورہ بالا ارشاد اس جانب توجہ دلا رہا ہے کہ مجلس انصاراللہ کے قیام کا حقیقی اور اولین مقصد خداتعالیٰ کی توحید کا قیام اور اس کے لئے خلافت سے تعلق کو قائم کرنا ہے۔ ہمارے پیارے امام حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک موقع پر فرمایا: انصار اللہ کا ایک اور اہم کام خلافت سے وابستگی اور اُس کے استحکام کیلئے کوشش کرنا ہے۔ جماعت اور خلافت ایک وجود کی طرح ہیں۔ افراد جماعت اس کے اعضاء ہیں تو خلیفہ وقت دل و دماغ کے طور پر ہیں۔ کیا کبھی ایسا ممکن ہوا ہے کہ انسانی دماغ ہاتھ کو کوئی حکم دے اور ہاتھ اُسے رڈ کر کے اپنی مرضی کے مطابق حرکت کرے۔ اگر آپ اس تعلق کو سمجھ جائیں اور اگر یہ سوچ ہر ایک میں پیدا ہو جائے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی فرد جماعت اپنے فیصلوں اور اپنے علمی نکتوں اور اپنے عملوں پر اصرار کریں۔ پس آپ کی ہر حرکت و سکون خلیفہ وقت کے تابع