سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 266
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 246 جماعتی نظام ایک مرکزی نظام ہے اور خدام، لجنہ اور انصار ذیلی دو تنظیمیں ہیں ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ جماعتی نظام ایک مرکزی نظام ہے اور خدام، لجنہ اور انصار ذیلی تنظیمیں ہیں اور گو یہ ذیلی تنظیمیں بھی براہ راست خلیفہ وقت کے ماتحت ہیں، ان سے ہدایات لیتی اور اپنے پروگرام بناتی ہیں لیکن جماعتی نظام بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور خلیفہ وقت کے قائم کر دہ نظاموں میں سے سب سے بالا نظام ہے۔ ہر ذیلی تنظیم کا ممبر جماعت کا بھی ممبر ہے اور جماعت کا ممبر ہونے کی حیثیت سے وہ جماعتی نظام کا پابند ہے۔ اگر کوئی جماعتی عہدیدار کسی نوجوان کو، کسی خادم کو بحیثیت فرد جماعت کوئی کام سپر د کرتا ہے اور اس دوران خدام الاحمدیہ کے عہدیدار کی طرف سے بھی کوئی کام سپر د ہوا ہے تو وہ خادم جس کے سپر د جماعتی عہدیدار نے کام سپر د کیا ہے، بحیثیت خادم نہیں بلکہ بحیثیت فرد جماعت خدام الاحمدیہ کے متعلقہ افسر کو اطلاع کرکے کہ جماعت کے عہدیدار نے میرے سپر د فلاں فوری کام کیا ہے، اس لئے میں اس کو پہلے کرنے کے لئے جا رہا ہوں، اس کام کو پہلے کرے اور خدام الاحمدیہ یا کسی بھی ذیلی تنظیم کا کام بعد میں۔ یہ تو ہے ہنگامی موقع پر لیکن عام طور پر روٹین کے جو کام ہوتے ہیں، اس کا سالانہ کیلنڈر جماعت کا بھی بن جاتا ہے اور ذیلی تنظیموں کا بھی اور جماعت کا کیلنڈر کیونکہ پہلے بن جاتا ہے اس لئے ذیلی تنظیمیں اپنے پروگرامز اس کے مطابق adjust کریں مثلاً اجتماع ہے ، ٹورنامنٹس ہیں اور مختلف جلسے ہیں۔ اگر ہنگامی طور پر کوئی جماعتی پروگرام کسی جگہ بن جاتا ہے تو جماعتی پروگرام بہر حال ذیلی پروگراموں پر مقدم ہے۔ ذیلی تنظیموں کے جو پروگرام ہیں ان میں براہ راست جماعتی انتظامیہ کو دخل دینے کا حق نہیں ہے ، یہ بھی واضح ہونا چاہیے۔ خدام الاحمدیہ کے کام میں مقامی صدران یا امیر وغیرہ کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتے۔ نہ لجنہ کے کام میں نہ انصار اللہ کے کام میں ، باوجود اس کے کہ ان کا نظام بالا ہے۔ اگر امراء خلاف تعلیم سلسلہ اور خلاف روایت ذیلی تنظیموں سے کوئی کام ہو تا ہوا دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ ذیلی تنظیم کے صدر کو بلا کر سمجھائیں، اگر مقامی