سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 263
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 243 انہیں دوسروں کے لئے نمونہ بننے کے لئے اپنی عبادتوں اور دوسرے اخلاق کے معیار اونچا کرنے کی بھی دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ پس اگر عہدیدار اپنے آپ کو عہدیدار کی بجائے خادم سمجھیں اور افراد جماعت اپنے عہدیداران کو نظام جماعت چلانے کے لئے خلیفہ وقت کے مقرر کردہ کارکن سمجھیں تو یہ تعلقات ہمیشہ محبت اور پیار کے تعلق کی صورت میں رہیں گے جو پھر خلیفہ وقت کے تابع ہو کر دنیا کو امن اور سلامتی کا حقیقی پیغام دینے والے ہوں گے ، دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنے والے ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کو پورا کرنے والے ہوں گے۔ ان راہوں پر چلنے والے ہوں گے جن راہوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں چلانا چاہتے ہیں۔ ان معیاروں کو حاصل کرنے والے ہوں گے جن معیاروں کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ”اے سعادت مند لو گو !“ آپ میں سعادت تھی تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ، زمانے کے امام کو قبول کیا۔ اب سعادت کا پہلا قدم تو تم نے اٹھا لیا۔ آگے آپ فرماتے ہیں: ”اے سعادت مند لو گو ! تم زور کے ساتھ اس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کے لئے مجھے دی گئی ہے۔“ ایک قدم سعادت کا تو تم نے اٹھالیا، نیک فطرت تھی قبول کر لیا، اب اپنے آپ پر اس تعلیم کو بھی لاگو کرو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئی ہے۔ فرماتے ہیں: ”تم خدا کو واحد لاشریک سمجھو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو نہ آسمان میں سے، نہ زمین میں سے۔ خدا خدا اسباب کے استعمال سے تمہیں منع نہیں کرتا۔ دنیاوی کام ہ؟ کام ہیں ان سے تمہیں منع نہیں کرتا۔ ذریعے ہیں ان سے تمہیں منع نہیں کرتا، تو کل اگر اللہ تعالیٰ پر کرنا ہے تو اس کے لئے حکم ہے کہ اونٹ کا کا گھٹنا باند ھو۔ لیکن جو شخص خدا کو چھوڑ کر اسباب پر ہی بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے۔ قدیم سے خدا کہتا چلا آیا ہے کہ پاک دل بننے کے سوا نجات نہیں، سو تم پاک دل بن جاؤ اور نفسانی کینوں اور غصوں سے الگ ہو جاؤ۔ انسان کے نفس امارہ میں کئی قسم کی پلیدیاں ہوتی ہیں مگر سب سے زیادہ تکبر کی پلیدی