سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 257

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 237 آپ سے مشورہ مانگا ہے تو اگر آپ صحیح مشورہ نہیں دیتے تو خیانت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ اگر انصاف سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو منتخب نہیں کرتے جو اس کام کے اہل ہیں جس کے لئے منتخب کیا جا رہا ہے، اگر ذاتی تعلق ، رشتہ داریاں اور برادریاں آڑے آرہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی نافرمانی کر رہے ہیں کہ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلى أَهْلِهَا ( النساء: 59) یعنی تم امانتیں ان کے مستحقوں کے سپر د کرو جو ہمیشہ عدل پر قائم رہنے والے ہوں۔ اور اس اصول پر چلنے والے ہوں کہ جب بھی فیصلہ کرنا ہے تو اس ارشاد کو بھی پیش نظر رکھنا ہے کہ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء:59) کہ انصاف سے فیصلہ کرو۔ جو ذمہ داریاں سپرد کی گئی ہیں ان کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا کرو۔ اگر نہیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہاں داؤ چل گیا تو آگے بھی اسی طرح چل جائے گا۔ اللہ کا رسول کہتا ہے کہ جزا سزا کے دن تم پوچھے جاؤ گے۔ ایسے عہدیداروں کو منتخب کریں جو اس کے اہل ہوں پس جماعت کا بھی کام ہے کہ ایسے عہدیداروں کو منتخب کریں جو اس کے اہل ہوں اور ذاتی رشتوں اور تعلقات اور برادریوں کے چکر میں نہ پڑیں۔ اور اسی طرح خلیفہ وقت کی نمائندگی میں عہدیداروں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ان افراد جماعت کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے (جیسا کہ میں نے پہلے کہا) جن پر اعتماد کرتے ہوئے بہترین عہدیدار منتخب کرنے کا کام سپر د کیا گیا ہے اور مالک کے مال کی نگرانی یہی ہے جو ہر فرد جماعت نے، جس کو رائے دینے کا حق دیا گیا ہے، کرنی ہے۔ ۔۔۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر کام دعا سے کریں اور دعائیں کرتے ہوئے اپنے عہدیدار منتخب کریں اور ہمیشہ دعاؤں سے آئندہ بھی اپنے عہدیداروں کی مدد کریں اور میری بھی مدد کریں۔ اللہ مجھے بھی آپ کے لئے دعائیں کرنے کی توفیق دیتا ر ہے اور جو کام میرے سپر د ہے اس کو ادا کرنے کی احسن رنگ میں توفیق دیتار ہے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 6 اپریل 2007ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 5 صفحہ 136-138)