سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 193
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 173 نمائندگان شوری کو زریں ہدایات ”اب میں نمائندگان سے بھی چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ شوری کی نمائندگی ایک سال کے لئے ہوتی ہے۔ یعنی جب شوری کا نمائندہ منتخب کیا جاتا ہے تو اس کی نمائندگی اگلی شوریٰ تک چلتی ہے جب تک نیا انتخاب نہیں ہو جاتا۔ صرف تین دن یا دو دن کے اجلاس کے لئے نہیں ہوتی۔ شوریٰ کے نمائندگان کے بعض کام مستقل نوعیت کے اور عہدیداران جماعت کے معاون کی حیثیت سے کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے مستقلاً اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ تو جیسا کہ میں نے کہا جماعت کو اپنے نمائندے ایسے لوگوں کو چننا چاہیے جو ان کے نزدیک ایک تو سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوں۔ ہر میدان میں ہر ایک ماہر نہیں ہوتا، کوئی کسی معاملے میں زیادہ صائب رائے رکھنے والا ہوتا ہے یا مشورہ دے سکتا ہے، کوئی کسی معاملے میں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عبادت گزار ہونا چاہیے اور حقیقی عبادت گزار ہمیشہ تقویٰ پر قدم مارنے والا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرے۔ اور جہاں قرآن اور سنت کے مطابق واضح ہدایات نہ ملتی ہوں وہاں وہ اپنی سمجھ اور علم کو خدا سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کہنے کا یہ مطلب ہے کہ جب نمائندگان کو افراد جماعت اس حسن ظنی کے ساتھ منتخب کرتے ہیں تو جو نمائندگان شوریٰ ہیں ان پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اس ذمہ داری کو ادا کریں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ جماعت کے افراد نے آپ پر حسن ظن رکھتے ہوئے قرآن کریم کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہوئے آپ کو منتخب کیا ہے کہ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أهْلِهَا (النساء 59) کہ امانتیں ان کے اہل کے سپر د کرو۔ خدا کرے کہ اکثریت نمائندگان جو وہاں شوریٰ میں آئے ہوئے ہیں ان کا انتخاب اسی سوچ کے ساتھ ہوا ہو اور کسی خویش پروری یا ذاتی پسند کی وجہ سے نہ ہو ا ہو۔ لیکن اگر بالفرض بعض ایسے نمائندگان بھی آگئے ہیں جو ذاتی تعلق کی وجہ سے منتخب ہوئے ہیں تو میں امید رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے نمائندگان کو سمجھ بوجھ کے