سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 116
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 96 ہیں، کوئی چیز باقی نہیں رہی، اخلاص ختم ہو گیا ہے۔ اور پھر لکھتے ہیں اور آپ ہی اس کا جواب بھی دے دیا کہ مجھے پتہ ہے آپ یہی جواب دیں گے جو حضرت علی نے دیا تھا کہ پہلے خلفاء کے ماننے والے میرے جیسے لوگ تھے اور مجھے ماننے والے تم جیسے لوگ ہو۔ لیکن سن لیں میرا جواب یہ نہیں ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت احمدیہ نے ہمیشہ قائم رہنا ہے اور وفا قائم کرنے والے اس میں ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ میرا جواب یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں لاکھوں، کروڑوں ایسے ہیں جو حضرت علیؓ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاص ووفا کے نمونے قائم کرنا جانتے ہیں۔ نظام جماعت اور نظام خلافت کے لئے قربانیاں کرنا جانتے ہیں۔ یہ خوف دلانا ہے تو کسی دنیا دار کو دلاؤ۔ میں تو روزانہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھتا ہوں۔ لوگوں کے اخلاص و وفا کے نظارے دیکھتا ہوں۔ مجھے تو یہ باتیں ڈرانے والی نہیں۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو وعدے کئے ہیں وہ انہیں پورا ہوتا ہمیں دکھا بھی رہا ہے اور ہمیشہ دکھاتا بھی رہے گا اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہماری نسلوں کو بھی دکھاتا رہے۔ جماعت کے ساتھ چمٹے رہنے والوں کو کوئی خطرہ نہیں جماعت کو مَیں یہ کہتا ہوں کہ دعاؤں کے ساتھ ہر سطح پر اخلاص و وفا کے نمونے دکھاتے ہوئے اس اسلامی تعلیم پر عمل کرتے چلے جائیں جو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتائی ہے۔ عاجزی اور وفا دکھاتے ہوئے اگر آپ چلتے رہیں گے تو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق جماعت سے چمٹے رہیں تو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اُن لوگوں کو خطرہ ہے جو ٹھو کر کھا کر شیطان کے بہکاوے میں آکر جماعت کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ کو یا جماعت کے ساتھ چھٹے رہنے والوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ اُن کی دنیا و آخرت دونوں سنوری ہوئی ہیں اور انشاء الله سنوری رہیں گی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔ آپ اپنی جماعت سے کیا امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کے مطابق سب کو چلنے کی توفیق دے۔