سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 113
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 93 حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے وقت عہد لیا کہ تنگی ہو یا آسائش، خوشی ہو یا نا خوشی، ہر حال میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے۔ نیز ہم ان لوگوں سے جو کام کے اہل اور صاحب اقتدار ہیں، مقابلہ نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ ہم کھلا کھلا کفر دیکھیں ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی برہان آجائے کہ حکام غلطی پر ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور حق اور بات کہیں گے۔ (صحیح مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء ) تو مطلب یہی ہے کہ اطاعت کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ حق بات کہنی ہے۔ سوائے شریعت کے واضح حکم کی کوئی خلاف ورزی کر رہا ہو تو پھر اطاعت نہ کریں جس طرح حکومت پاکستان نے احمدیوں پر پابندی لگا دی ہے کہ نمازیں نہیں پڑھنی۔ تو یہ تو ہمارا ایک حق ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کرنا۔ اور شریعت کے قانون پر تو کوئی قانون بالا نہیں ہے اس لئے احمدی نمازیں پڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ملکی قانون کی ہر طرح پابندی کی جاتی ہے۔ پھر ایک روایت میں آتا ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو اور اطاعت کرو۔ یہ جو دو الفاظ ہیں ان کو اپنا شعار بناؤ، یہی تمہارا طریق ہونا چاہیے۔ خواہ ایک حبشی غلام کو ہی کیوں نہ تمہارا افسر مقرر کر دیا جائے۔ کسی کو حقیر اور کمزور سمجھتے ہو اگر وہ بھی تمہارا امام ہے تو اطاعت کرو۔ (صحیح بخاری كتاب الاحكام باب السمع والطاعة للامام مالم تكن معصية) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی اپنے امیر میں کوئی بظاہر ناگوار یا کوئی بری بات دیکھے تو وہ صبر کرے اور کیونکہ جو شخص تھوڑا سا بھی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اور تعلق توڑ لیتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔ (صحیح مسلم كتاب الامارة باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة إلى الكفر )