ضیاءالحق — Page 459
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۵۷ نور القرآن نمبر ۲ آپ ان سے علاقہ بیعت بھی رکھتے تھے۔ تعجب نہیں کہ آپ کو ان کے الہام سے فائدہ پہنچے۔ عاجز کی غرض سوائے خیر خواہی اور اتفاق بین المسلمین اور کچھ نہیں میں حلفاً بیان کرتا ہوں وكَفَى بِاللهِ شَهِيدًا کہ یہ الہام میں نے خود حضرت مرحوم سے سنا ہے۔ خدا کے لئے جاگتے دل سے سنو وهو هذا می بینم که محمد حسین پیرا پنے کلان پوشیده است لاکن پاره پاره شده است - پھر آپ ہی یہ تعبیر فرمائی کہ آن پیراهن علم است که پاره پاره خواهد شد اور پاره پاره زبان سے کہتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سینہ سے لے کر پنڈلیوں تک بار بار اشارہ کرتے تھے ۔ پھر عاجز کو فرمایا کہ آنرا باید گفت که تو به کرده باشد ۔ چنانچه حسب الوصیت میں نے آپ کو یہ حال سنایا تھا ۔ آپ نے عاجز کو چینیاں والی مسجد لاہور میں تمسخر آمیز الفاظ سے پیغام دیا تھا کہ ولی بننے جاتے ہیں عبداللہ کو کہنا کہ مجھے بھی بلاوے ۔ اس پیغام کے بعد انہوں نے ملا سفر کے رو بروالہام مذکور فرمایا اور میں نے امرتسر میں بمکان حافظ محمد یوسف صاحب جہاں حافظ عبد المنان رہتا تھا حرف بحرف آپ کو سنا دیا تھا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت آپ متاثر ہو گئے تھے ۔ جس سے ؟ مطالعہ کتاب بھی چھوٹ گیا تھا۔ میں نے انہی دنوں اپنے گاؤں کے لوگوں کو بھی سنا دیا تھا جو وہ اب گواہی دے سکتے ہیں ۔ غرضکہ یہ منذر الہام ان دنوں میں پورا ہوا جس کا اثر اب ظاہر ہوا کہ مرزا صاحب کے مقابل پر آپ کی ساری علمیت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور علم کے لاف و گزاف بھی پیچ محض ثابت ہوئے ۔ لہذا یہ الہام بے شک سچا ہے ۔ مولوی صاحب میں نے وقت پر دوبارہ آپ کو یاد دلایا ہے آپ عبرت پکڑیں اور توبہ کریں اور اس مصلح اور مجدد اور امام کامل اور