ضیاءالحق — Page 448
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۴۶ نور القرآن نمبر ۲ کا معیار نہیں ہوتا ماسوا اس کے ایک خوبصورت کو اگر اتفاقاً اس پر نظر پڑ جائے خوبصورت سمجھنا نفس الامر میں کوئی بات عیب کی نہیں ۔ ہاں بد خطرات کامل تقدس کے برخلاف ہیں لیکن جو شخص بدخطرات سے پہلے حفظ ماتقدم کے طور پر تقویٰ کی دقیق راہوں پر قدم مارے تا خطرات سے دور رہے تو کیا ایسا عمل کمال کے منافی ہوگا ۔ یہ تعلیم قرآن شریف کی نہایت اعلیٰ ہے کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ یعنی جس قدر کوئی تقوی کی دقیق راہیں اختیار کرے اسی قدر خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا زیادہ مرتبہ ہوتا ہے پس بلاشبہ یہ نہایت اعلیٰ مرتبہ تقویٰ کا ہے کہ قبل از خطرات خطرات سے محفوظ رہنے کی تدبیر بطور حفظ ما تقدم کی جائے ۔ اور اگر یہ دعویٰ ہو کہ کاملین بہر حال خطرات سے محفوظ رہتے ہیں ان کو تدبیر کی حاجت نہیں تو یہ دعوی سراسر حماقت اور قصور معرفت کی وجہ سے ہوگا کیونکہ گو انبیاء علیہم السلام کسی معصیت اور نافرمانی پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی دلی عزیمت نہیں کر سکتے اور ایسا کرنا ان کے لئے کبائر ذنوب کی طرح ہے لیکن انسانی قومی اپنے خواص اُن میں بھی دکھلا سکتے ہیں گو وہ بد خطرات پر قائم ہونے سے بکلی محفوظ رکھے گئے ہیں مثلاً اگر ایک نبی بشدت بھوکا ہو اور راہ میں وہ بعض درخت پھلوں سے لدے ہوئے یہ ئے پائے تو یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بغیر اجازت مالک پھلوں کی طرف ہاتھ لمبا نہیں کرے گا اور نہ دل میں ان پھلوں کے توڑ نے کے لئے عزیمت کرے گا لیکن یہ خیال اس کو آ سکتا ہے ۔ کہ اگر یہ پھل میری ملک میں سے ہوتے تو میں ان کو کھا سکتا اور یہ خیال کمال کے منافی نہیں ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ آپ کے خدا صاحب تھوڑی سی بھوک کے عذاب پر صبر نہ کر کے کیونکر انجیر کے الحجرات: ۱۴