ضیاءالحق — Page 314
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۱۴ ضياء الحق متواتر تین حملے ہوئے یعنی امرتسر اور لودھیا نہ اور فیروز پور میں مگر وہ ان حملوں کو ثابت نہ کر سکا بلکہ مارٹن کلارک وغیرہ نے نالش کے لئے اس کو بہت اٹھایا اور بہت ہی زور لگایا جس سے اس نے صاف انکار کر دیا اور میت کی طرح اپنے تئیں بنا لیا ۔ اگر وہ سچا تھا تو سچائی کا جوش ضرور اس میں ہونا چاہیے تھا اور اگر اپنے لئے نہیں تو اپنے دین کے لئے ضرور اس بات کا ثبوت دینا اس کے ذمہ تھا کہ جس ڈر کا اس کو اقرار ہے وہ محض تین حملوں کی وجہ سے تھا نہ اسلامی عظمت کی وجہ سے اور ہر ایک ادنیٰ استعداد کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس نے اپنے اس دعوئی کا ثبوت نہیں دیا جو بطور روک کے اس کی طرف سے پیش ہوا تھا بلکہ تین حملوں کا ڈر ایک بے ثبوت بناوٹ اور بے ہودہ روک تھی جو واقعی ڈر کے مخفی رکھنے کے لئے پیش کی گئی تھی ۔ اگر وہ سچا ہوتا تو ضرور نالش کر کے اس کو ثابت کرتا یا کسی اور طور سے اس واقعہ کو بپایہ ثبوت پہنچاتا ۔ پس جبکہ اس نے خوف کا اقرار تو کیا مگر ان وجوہ کو ثابت نہ کر سکا جو خوف کی بنیاد ٹھہرا لی تھی تو ضروری طور پر اس خوف کو پیشگوئی کی عظمت اور اسلام کے رعب کی طرف منسوب کرنا پڑا اس صورت میں ہمیں کچھ ضرور نہیں تھا کہ کوئی انعامی اشتہار دیتے یا قسم کے لئے اس کو مجبور کرتے کیونکہ ان قرائن نے جو اس نے آپ ہی اپنے اقوال اور افعال اور حرکات سے ظاہر کئے تھے اس بات کو بخوبی ثابت کر دیا تھا کہ وہ ضرور اسلامی عظمت سے ڈرتا رہا اور قرآن کریم اور نیز عیسائیوں کی کتابوں کے موافق رجوع کے لئے اسی قدر بات کافی تھی کہ اس کے دل نے اسلامی عظمت کو مان لیا مگر ہم نے صرف اس قراپنی ثبوت پر اکتفا نہ کیا بلکہ متواتر چار اشتہار مع انعام رقم کثیر کے جاری کئے اور ان میں لکھا کہ وہ قرائن جو تم نے آپ ہی اپنے