ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 581

ضیاءالحق — Page 289

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۸۹ ضياء الحق ہے جس کو آتھم ایک ذرہ بھی ثابت نہیں کر سکا ۔ اور جب ہم نے آتھم کے ہی فائدہ کے لئے یہ ثبوت حلف کے ذریعہ سے اس سے لینا چاہا تو ایک دوسرا جھوٹ بول کر جو ہمارے مذہب میں قسم کھانا ہرگز جائز نہیں ! گریز اختیار کی ۔ غرض نہ اس نے نالش کے ذریعہ سے جس کا اس کو اس کے بیان کے موافق حق پہنچتا تھا خوف کی بنا یعنی تین حملوں کو ثابت کیا اور نہ چند گواہوں کے ذریعہ سے اس بنا کو بپایہ ثبوت پہنچایا ۔ اور نہ ہماری درخواست قسم سے جو سراسر اسی کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے تھی با وجود چار ہزار روپیہ پیش کرنے کے کچھ بھی توجہ کی ۔ تو اب اے ایماندارو ۔اے منصفو۔ اے خدا ترس بندو ۔ اے عقل سلیم والو۔ ذرہ سوچو کہ کیا وہ اس بار ثبوت سے سبکدوش ہو سکا جس کے نیچے وہ اب تک دبا ہوا ہے ۔ کیا اس خوف کا اقرار کر کے جو ہماری شرط کا مؤید تھا وہ اس بات ا سے عہدہ برا ہو سکا کہ وہ خوف ان حملوں کی وجہ سے تھا جو اس پر وارد ہونے شروع ہو گئے تھے ۔ پھر عزیز و ! کیا اب تک وہ شرط پوری نہ ہوئی جس میں نرم الفاظ میں رجوع بحق کی شرط تھی کھلے کھلے اسلام کا تو ذکر نہ تھا۔ اے صداقت کے دوستو کیا ان باتوں سے کچھ بھی نتیجہ نہ نکلا کہ آتھم نے اپنے قول و فعل سے خوف زدہ ہونا ظاہر کیا ۔ اور جو خوف کی بنا قائم کی تھی یعنی ہماری جماعت کے تین حملے ان کو وہ ثابت نہ کر سکا ۔ نہ نالش کے ذریعہ سے نہ شہادت سے نہ قسم کھانے سے ۔ بہتر تھا کہ شیخ بتالوی یا اس کے دوست ہند و زادہ لودھیانوی کو جو سیہ دلی سے عیسائیت کے قریب قریب جا پہنچے ہیں اپنے مکان پر بٹھا رکھتا ۔ اور جب سانپ تعلیم یافتہ اس کے ڈسنے کو یا نیزوں اور تلواروں والے اس کے قتل