ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 581

ضیاءالحق — Page 203

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۰۳ منن الرحمن الغني كالمطلوب۔ وليس له حاجة الى المخلوقين۔ بل قد تقتضى ذاته (۵۹) غنی کے لئے کوئی امر واجب الطلب نہیں اور اس کو مخلوقات کی طرف کچھ بھی حاجت نہیں بلکہ اس کی تجليات الربوبية۔ ليُعرف انها من صفاته الذاتية۔ فيخلق ما يشاء بالامر ذات تجلیات ربوبیت کا تقاضا کرتی ہے تا کہ جانا جائے کہ ربوبیت اس کی صفات ذاتیہ میں سے ہے والارادة ۔ وقد يقتضى تجليات الاحدية۔ ليعرف ان غيره هالكة الذات پس اپنے امر اور ارادہ سے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور کبھی اس کی ذات تجلیات احدیت کا تقاضا باطلة الحقيقة۔ و ليس له اليه مثقال ذرة من الحاجة۔ فيهلك كلمن على کرتی ہے تا کہ جانا جائے کہ اس کے بغیر سب مرنے والی چیزیں ہیں اور ان کی طرف ایک ذرہ اس کو الارض من نوع الخلقة۔ و لا يغادر فردًا من افراد البرية - الا و يمحوا حاجت نہیں ۔ تب وہ ہر یک کو جو زمین پر ہے ہلاک کرتا ہے اور ایک فرد کو بھی نہیں چھوڑتا بلکہ اس کا اثره بالاهلاك والاماتة۔ وكذلك يدير صفاته الى ابد الأبدين۔ وكل نشان مٹا دیتا ہے اور اسی طرح اپنی صفات کو گردش میں رکھتا ہے اور بھی انتہا نہیں اور ہر یک صفت صفة يقتضى ظهوره بعد حين فيخلق قرونا بعد ما اهلک قرونا اولی۔ اپنے وقت پر ظہور چاہتی ہے پس بعض زمانوں کے ہلاک کرنے کے بعد دوسری زبانیں پیدا کر دیتا ہے ليعرف بصفات عليها مدار نجات الورى۔ و لا يحتاج الى قدم نوع تا کہ وہ اپنی ان صفات سے پہچانا جائے جو مدا رنجات ہیں اور وہ کسی نوع کے قدامت کا محتاج نہیں كما هو زعم النوكي۔ وهو غنى عن العالمين۔ ولا تنفك صفات | جیسا کہ نا دانوں کا خیال ہے اور وہ تمام عالم سے بے نیاز ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات اس کی ذات الرحمن من ذات الرحمن وترى دور صفات الله القهار۔ كدور الليل والنهار سے منفک نہیں ہو سکتی اور خدا تعالیٰ کے صفات کا دور تو ایسا پائے گا جیسا کہ دن اور رات کا دور ہے ولا تتعطل صفاته كما هو زعم الغافلين۔ بل يقتضى ذاته وقت الافناء | اور اس کے صفات بریکا رنہیں ہوتے جیسا کہ غافلوں کا خیال ہے بلکہ اس کی ذات فنا کرنے کے وقت کو ایسا ر سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ بمطابق عربی عبارت ترجمہ میں دوسرے زمانے “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)