ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 581

ضیاءالحق — Page 193

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۹۳ منن الرحمن المنان۔ و فيها حسن و بهاء و انواع اللمعان۔ و فيها عجائب صانع (٢٩) رنگ ہے اور حسن اور خوبصورتی اور قسماقسم کی چمک ہے اور صنعت الہی کے عظیم الشان عجائبات ہیں اس عظيم الشان ۔ تلمع وجهها بين صفوف السنة شتى۔ كأنها كوكب درى کا منہ کئی زبانوں کی صفوں کے اندر چمک رہا ہے گویا یہ ایک چمکتا ہوا موتی اندھیرے میں ہے اور یہ اس في الدجى۔ و انها كروضة طيبة على نهر جار ۔ مثمرة بانواع ثمار ۔ و پاکیزہ باغ کی طرح ہے جو نہر جاری پر ہو جو پھلوں سے لدا ہوا ہو مگر دوسری زبانوں کا یہ حال ہے کہ اما الألسن الأخرى۔ فقد غير وجهها قتر تصرف النوكي۔ و ما بقيت احمقوں کے تصرف کے غبار نے بہت سا حصہ ان کا متغیر کر دیا ہے اور اپنی پہلی صورت پر باقی نہیں رہیں على صورتها الاولى۔ فهى كاشجار اجتثت من مغارسها وبعدت من پس وہ ان درختوں کی طرح ہیں جو اپنی جگہ سے اکھیڑے گئے اور اپنے نگہبان کی آنکھوں سے دور کئے نواظر حارسها۔ ونبذت في موماة وقفر وفلاة ۔ فاصفرت اوراقها۔ گئے اور ایسے بیابان میں ڈالے گئے جہاں پانی نہیں اور ایسے جنگل میں جہاں کوئی درخت سبز نہیں پس ان ویبست ساقها۔ وسقطت اثمارها۔ وذهبت نضرتها واخضرارها وترى کے پتے زرد ہو گئے اور ان کے پھل گر گئے اور ان کی تازگی اور سبزی جاتی رہی اور تو دیکھتا ہے کہ ان کا وجهها كالمجذومين۔ چہرہ جزا میوں کی طرح ہو گیا ۔ فواها للعربية ما احسن وجهها في الحلل المنيرة الكاملة۔ پس عربی زبان کیا ہی عمدہ ہے اور کیا اچھا اس کا چہرہ ہے جو چمکیلے اور کامل پیرا یہ میں أشرقت الارض بانوارها التامة۔ وتحقق بها كمال الهوية البشرية۔ نظر آتا ہے ۔ زمین اس کے پورے نوروں سے چمک اٹھی ہے اور بشری ماہیت کا کمال اس سے توجد فيها عجائب الصانع الحكيم القدير ۔ كما توجد في كل ثابت ہو گیا ہے اس میں عجائب کام خدائے صانع حکیم قادر کے ظاہر ہیں جیسا کہ ان تمام چیزوں