ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 581

ضیاءالحق — Page 189

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۸۹ منن الرحمن كلما اشتدت اليه الحاجة۔ و تصوّبت مطرها بقدر ما اقتضت البلدة (۴۵) اور اس کا مینہ اس قدر برسا ہے جس قدر زمین کو ضرورت تھی اور دلوں کے خیال ظاہر کرنے کے لئے وفاقت كل لغت في ابراز ما فى الضمائر و ساوى الفطرة البشرية | هر یک زبان پر فائق ہے اور فطرت بشری سے ایسی برابر ہے ۔ جیسا کہ ایک دائرہ دوسرے دائرے كتساوى الدوائر۔ وكل ما اقتضته القوى الانسانية وابتغته التصورات سے برابر ہوا اور وہ تمام امور جن کو انسانی قوٹی چاہتے ہیں اور انسانی تصورات ان کے خواہشمند ہیں ا الانسية وكل ما طلبه حوائج فطرة الانسان۔ فيحاذيها مفردات هذه اور وہ تمام امور جن کو انسانی فطرت کی حاجتیں طلب کرتی ہیں سو اس زبان کے مفردات ان کے اللسان مع تيسير النطق والقاء الاثر على الجنان۔ فاتبع ماجاءك من مقابل پر واقع ہیں اور ساتھ اس کے یہ خوبی ہے کہ بولنے کے طریق کو آسان کیا گیا ہے ایسا کہ دل پر اليقين ثم سياق هذه الآية يزيدك في الدراية۔ فانه يدل بالدلالة القطعية | اثر پڑے پھر اس آیت کا سیاق درایت کو زیادہ کرتا ہے کیونکہ وہ سیاق ان پوشیدہ بھیدوں پر دلالت على ما قلنا من الاسرار الخفية لتكون من الموقنين۔ فتفكر في أية کرتا ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں تا کہ تو یقین والوں میں سے ہو جائے پس اس آیت میں غور کر یعنی الرحمن الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ۔ فان الغرض فيها ذكر الفرقان والحث على علم القرآن کیونکہ اس آیت میں مقصود دو باتیں ہیں ۔ قرآن کی فضیلت کا ذکر اور اس کی تلاوت اور التلاوة والامعان ولا يحصل هذا الغرض الا بعد تعلم العربية والمهارة سوچنے پر ترغیب اور یہ غرض بجز اس کے حاصل نہیں ہو سکتی کہ عربی کو سیکھیں اور اس میں مہارت تامہ التامة في هذه اللهجة۔ فلأجل هذه الاشارة قدم الله آية عَلَّمَ الْقُرْآنَ ثم حاصل کریں پس اسی اشارت کی غرض سے خدا تعالیٰ نے آیت علم القرآن کو مقدم کیا پھر بعد اس کے آیت قفاه اية عَلَّمَهُ الْبَيَانَ كانه قال المنة منتان ۔ تنزيل القرآن علمه البیان کو لایا پس گویا کہ اس نے یہ کہا کہ احسان دو احسان ہیں (۱) قرآن کا اتارنا الرحمن : ٣٠٢ الرحمن : ۵