ضیاءالحق — Page 187
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۸۷ منن الرحمن و انبت كل بذری و زرعـى وهو خير المنبتين۔ وما كان لي حول أن (۴۳) اور اس نے میرے بیج اور کھیت کو اگایا اور وہ بہتر ہے سب اگانے والوں سے اور میری کہاں طاقت تھی کہ میں اعفر العدا۔ وما هروتُ إِذْ هروت ولكن الله هرى۔ وما رأيت رائحة دشمنوں کو خاک میں ملاؤں اور میں نے یہ سوٹا نہیں چلایا جبکہ چلا یا بلکہ خدا نے چلایا اور میں نے مشقت نفس کی بو شق النفس و ما اشتدت لى حاجة الى انضاء العنس۔ وما اعديت نہیں دیکھی اور مجھے کچھ ضرورت پیش نہ آئی کہ میں اپنی اونٹنی کو لاغر کروں اور میں نے قوی گھوڑے نظروں کے نہیں هياكل الانظار وما جريت طلقا مع الافكار۔ وما رأيت ذات كسور بل دوڑائے اور میں ایک تک بھی فکروں کے ساتھ نہیں چلا اور میں نے اونچی نیچی زمین کو نہیں دیکھا بلکہ میں پرندوں کی طرت كطيور او كراكب عيدهور ۔ و وجدت ما تشتهى الانفس طرح اڑا یا ایسے سوار کی طرح جو قوی اونٹ پر سوار ہوا اور میں نے ہر ایک امر جو جی چاہتا ہے اور آنکھیں اس سے وتلذ الاعين و أرضعت من غير بكاء وأنين۔ فتأليفي هذا امر من لذت اٹھاتی ہیں پالیا اور بغیر رونے کے مجھ کو دودھ پلایا گیا ۔ پس یہ میری تالیف اسی کی طرف سے ہے اور ہر یک لديه۔ وكل امر يعود اليه وهو احسن المحمودين۔ واذا از معت لهذه امر اسی کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ ان سب لوگوں سے جو تعریف کئے جاتے ہیں بہتر ہے اور جب میں نے الخطة و فكرت في تلك الآية وكذلك في آيات علمت من اس بزرگ کام کے لئے قصد کیا اور اس آیت میں فکر کیا اور اسی طرح ان تمام آیتوں میں جو مجھے حضرت احدیت حضرة الاحدية۔ فاحسست ان قارعًا يقرع باب بالي۔ ويعلمني من سے سکھلائی گئیں سو مجھے احساس ہوا کہ گویا ایک کھٹکھٹانے والا میرے دل کے دروازے کو کھٹکھٹاتا ہے اور نہایت علم عالى وينفخ روح التفهيم والتلقين۔ فسميت الكتاب منن الرحمان اونچا علم مجھے سکھلاتا ہے اور تفہیم اور تلقین کی روح پھونکتا ہے۔ پس میں نے کتاب کا نام منن الرحمان رکھا کیونکہ کئی بما انعم على ربي بانواع الفضل والاحسان و هو خير المحسنين | قسم کے فضل اور احسان سے خدا تعالیٰ نے میرے پر انعام کیا اور وہ سب سے بہتر احسان کرنے والا ہے