ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 581

ضیاءالحق — Page 175

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۷۵ منن الرحمن مفتاح الطريقة و لا يتدبرون القرآن منصفين۔ و لا يستوكفون صيب ٣١) ڈھونڈتے اور قرآن میں منصفوں کی طرح نہیں سوچتے ۔ اور الہی فیضان کے مینہ کا برسنا نہیں چاہتے اور الفيضان ويتيهون في موماة الخسران كالعمين۔ يؤذون بحدة زیاں کاری کے ایسے جنگلوں میں پھرتے ہیں جن میں نہ دا نہ نہ پانی ہے ۔ تیز کلموں کے ساتھ دکھ دیتے ہیں الكلمات و لا كحد الظباة۔ و لا يبالون مكانة الصادقين۔ و اذا قيل اور وہ کلمے ایسے تیز نہیں جیسا کہ تلواریں بلکہ ان سے بڑھ کر ہیں اور یہ لوگ سچوں کی شان کی کچھ پر واہ لهم لا تفسدوا واتقوا الله واهتدوا ۔ قالوا انما نحن اول نہیں رکھتے اور جب کہا جائے کہ فساد مت کرو اور خدا سے ڈرو اور ہدایت پذیر ہو جاؤ تو ان کا جواب یہ المصلحين۔ فبما كانوا يكذبون۔ ولا يتركون الفساد ہے ۔ کہ ہم تو اول درجہ کے مصلح ہیں ۔ پس اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور فساد کو نہیں چھوڑتے اور و يزورون ۔ ختم الله على قلوبهم و سقاهم سم ذنوبهم فما وفقوا جھوٹ کی بندشوں میں مشغول ہیں خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور انہیں کے گناہوں کی زہرا نہیں پلا وصاروا من الهالكين۔ وقد نُصِحُوا فاكدى النصيحة۔ و وُعِظُوا فما دی پس وہ توفیق یاب نہ ہوئے اور ہلاک ہو گئے اور ان کو نصیحت کی گئی ۔ پس نصیحت نے کچھ فائدہ نہ بخشا نفع الموعظة و ما اروا الاعنادا و ما زادوا الا فسادا و تراهم يعثون اور ان کو وعظ کیا گیا مگر وعظ نے کچھ نفع نہ دیا اور انہوں نے بجز عناد کے کچھ نہ دکھلایا اور بجز فساد کے کچھ في الارض مفسدين۔ نسلوا من كل حدب وصاروا سبب كل ندب۔ زیادہ نہ کیا اور تو دیکھتا ہے کہ وہ زمین پر فساد کرتے پھرتے ہیں ۔ ہر یک بلندی سے وہ دوڑے اور ہر یک و ساروا على نحب صايدين۔ و اشاعوا الفسق والفجور والكذب ماتم کا وہ سبب ہوئے اور شکار مارنے کے لئے جلدی جلدی انہوں نے قدم اٹھائے اور انہوں نے بدکاری والزور۔ بما كانوا فاسقين۔ فلذلك ترى ان الامانت قلت اور بے حیائی اور جھوٹ کو پھیلایا کیونکہ وہ خود بد کار تھے ۔ اور اسی لئے تو دیکھتا ہے کہ امانت کم ہو گئی