ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 517 of 630

ضرورة الامام — Page 517

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱۷ ضرورة الامام اشخاص ہیں لیکن مرزا صاحب کے مرید ہیں اور اکثر مرزا غلام احمد کے پاس رہتے ہیں۔ دیگر ۴۶ سات گواہ مختلف قسم کے دوکاندار ہیں جن کو مرزا صاحب سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ بالعموم یہ به بعض بعض ا اشخاص سب گواہان مرزا غلام احمد کے بیان کی تائید کرتے ہیں اور اس کی ذاتی آمدنی سوائے آمدنی تعلقہ داری، زمین اور باغ کے اور کسی قسم کی نہیں بتلاتے ۔ میں نے موقعہ پر بھی خفیہ طور سے مرزاغلام احمد کی ذاتی آمدنی کی نسبت بعض اشخاص سے دریافت ریافت کیا۔ کیا۔ لیکن اگر چه بد سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد کی ذاتی آمدنی بہت ہے اور یہ قابل ٹیکس ہے لیکن کہیں سے کوئی بین ثبوت مرزا صاحب کی آمدنی کا نہ مل سکا۔ زبانی تذکرات پائے گئے ۔ کوئی شخص پورا پورا ثبوت نہ دے سکا۔ میں نے موضع قادیاں میں مدرسہ اور مہمان خانہ کا بھی ملاحظہ کیا۔ مدرسہ ابھی ابتدائی حالت میں ہے اور اکثر بعمارت خام بنا ہوا ہے۔ اور کچھ مریدوں کیلئے بھی گھر بنے ہوئے ہیں ۔ لیکن مہمان خانہ میں واقعی مہمان پائے گئے اور یہ بھی دیکھا گیا کہ جس قدر مرید اس روز قادیاں میں موجود تھے انہوں نے مہمان خانہ سے کھانا کھایا۔ کمترین کی رائے ناقص میں اگر مرزا غلام احمد کی ذاتی آمدنی صرف تعلقہ داری اور باغ کی قرار دی جائے جیسا کہ شہادت سے عیاں ہوا اور جس قدر آمدنی مرزا صاحب کو مریدوں سے ہوتی ہے اس کو خیرات کا روپیہ قرار دیا جائے جیسا کہ گواہان نے بالعموم بیان کیا تو مرزاغلام احمد پر موجودہ انکم ٹیکس بحال نہیں رہ سکتا۔ لیکن جب کہ دوسری طرف یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مرزاغلام احمد ایک معزز اور بھاری خاندان سے ہے اور اس کے آباء واجداد رئیس رہے ہیں اور ان کی آمدنی معقول رہی ہے اور مرزاغلام احمد خود ملازم رہا ہے اور آسودہ حال رہا ہے تو ضرور گمان گزرتا ہے کہ مرزا غلام احمد ایک مالدار شخص ہے اور قابل ٹیکس ہے۔ مرزا صاحب کے اپنے بیان کے مطابق حال ہی میں اس نے اپنا باغ اپنی زوجہ کے پاس گرور کھ کر اس سے چار ہزار روپیہ کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد وصول پایا ہے۔ تو جس شخص کی عورت اس قدر رو پیر دے سکتی ہو اس کی نسبت ضرور گمان گزرتا ہے کہ وہ مالدار ہوگا ۔ کمترین نے جس قدر تحقیقات کی ہے۔ وہ شامل مثل ہذا ہے اور تعمیل حکم حضور رپورٹ ہذا ارسال خدمت حضور ہے۔ المرقوم ۳۱ راگست ۱۸۹۸ء