ضرورة الامام — Page 513
روحانی خزائن جلد ۱۳ الله ضرورة الامام عدالت اور حق پسندی کے دو ایسے نمونے دیئے ہیں جن کو ہم مدت العمر میں کبھی بھول نہیں ﴿۲۲﴾ سکتے ۔ کیونکہ کپتان ڈگلس صاحب کے سامنے وہ نازک مقدمہ آیا تھا جس کا فریق مستغیث ایک معزز عیسائی تھا اور جس کی تائید میں گویا پنجاب کے تمام پادری تھے۔ لیکن صاحب سے ہے اور موصوف نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی کہ یہ مقدمہ کس گروہ کی طرف سے ۔ پورے طور پر عدالت سے کام لیا اور مجھے بری کیا۔ اور جو مقدمہ اب مسٹر ٹی ڈیکسن صاحب کے زیر تجویز آیا۔ یہ بھی نازک تھا کیونکہ ٹیکس کی معافی میں سرکار کا نقصان ہے۔سو صاحب مؤخر الذکر نے بھی سراسر معدلت اور انصاف پسندی اور محض عدل سے کام لیا۔ میری دانست میں اس قسم کے حکام گورنمنٹ کی رعایا پروری اور نیک نیتی اور اصول انصاف کے روشن نمونے ہیں۔ اور واقعی امر یہی تھا جس امرتک مسٹر ٹی ڈیکسن صاحب کا روشن خیال پہنچ گیا۔ سو ہم شکر بھی کرتے ہیں اور دعا بھی۔ اور اس جگہ محنت اور تفتیش منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار پرگنہ بٹالہ قابل ذکر ہے جنہوں نے انصاف اور احقاق حق مقصود رکھ کر واقعات صحیحہ کو آئینہ کی طرح حکام بالا دست کو دکھلا دیا اور اس طرح پر ٹھیک ٹھیک اصلیت تک پہنچنے کیلئے اعلیٰ حکام کو مدد دی۔ اب وہ مقدمہ یعنی تحصیلدار صاحب کی رائے اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کا اخیر حکم ذیل میں لکھا جاتا ہے۔ نقل رپورٹ منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار پرگنہ بٹالہ ضلع گورداسپور بمقد مہ عذرداری ٹیکس مشموله مثل اجلاسی مسٹر ٹی ڈیکسن صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر مرجوعه ۲۰ جون ۹۸ فیصله ۷ استمبر ۹۸ نمبر بسته از محکمه نمبر مقدمه مثل عذر داری انکم ٹیکس مسمی مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضی ذات مغل سکنہ قادیاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ۵۵ بحضور جناب والا شان جناب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور جناب عالی۔ مرزا غلام احمد قادیانی پر اس سال ما می انکم ٹیکس تشخیص ہوا تھا اس سے