ضرورة الامام — Page 303
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۰۳ كتاب البرية یہ ایک بناوٹ تھی جس کو صاحب مجسٹریٹ ضلع نے بخوبی دریافت کر لیا اور ہر ایک شخص جو اس تحریر پر غور کرے گا اور اس مقدم مقدمہ کو اوّل سے آخر تک غور سے پڑھے گا وہ دلی یقین سے سمجھ لے گا کہ ان لوگوں نے جو مسیح کے خون سے پاک ۲۶۳ ہو جانے کا دعوی کرتے ہیں کیونکر ایک ناحق کے خون کیلئے پختہ سازش کی تھی ۔ یہ ظاہر ہے اور ڈاکٹر کلارک کو اس بات کا اقرار ہے کہ جب انہوں نے ایک عیسائی بقيه حاشيه کے موافق تجدید دین کرے گا اور فقره يجد دلها جو حدیث میں موجود ہے یہ صاف بتلا رہا ہے کہ ہر ایک صدی پر ایسا مجد د آئے گا جو مفاسد موجودہ کی تجدید کرے گا ۔ اب جب ایک منصف غور سے دیکھے کہ چودھویں صدی کے سر پر کون سے سخت خطرناک مفاسد موجود تھے جن کی تجدید کے لئے مجدد میں لیاقتیں چاہئیں تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بہت بڑا فتنہ جس سے لاکھوں انسان ہلاک ہو گئے پادریوں کا فتنہ ہے۔ اور اس سے کوئی عقلمند اور در دخواہ اسلام کا انکار نہیں کرے گا کہ اس صدی کے مجد د کا بڑا فرض یہی ہونا چاہئے کہ وہ کسر صلیب کرے اور عیسائیوں کی حجتوں کو نابود کر دیوے اور جبکہ چودھویں صدی کے مجد دکا کسر صلیب فرض (کام) ہوا تو اس سے مانا پڑا کہ وہی مسیح موعود ہے کیونکہ حدیثوں کی رو سے مسیح موعود کی بھی یہی علامت ہے کہ وہ صدی کا مجدد ہوگا اور اس کا کام یہ ہوگا کہ کسر صلیب کرئے۔ بہر حال اسوقت کے مولوی اگر دیانت اور دین پر قائم ہو کر سوچیں تو انہیں ضرور اقرار کرنا پڑے گا کہ چودھویں صدی کے مجد دکا کام کسر صلیب ہے۔ اور چونکہ یہ وہی کام ہے جو مسیح موعود سے مخصوص ہے اس لئے بالضرورت ۲۶۴ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چودھویں صدی کا مجد دمسیح موعود چاہیئے اور اگر چہ چودھویں صدی میں اور فسق و فجور بھی مثل شراب خوری و زنا کاری وغیرہ بہت پھیلے ہوئے ہیں مگر بغور نظر معلوم ہوگا کہ ان سب کا سبب ایسی تعلیمیں ہیں جن کا یہ مدعا ہے کہ ایک انسان کے خون نے گناہوں کی باز پرس سے کفایت کر دی ہے۔ اسی وجہ سے ایسے جرائم کے ارتکاب میں یورپ سب سے