ضرورة الامام — Page 299
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۹۹ كتاب البرية کے بعد کی گئی تھی داخل نہیں سمجھتا اور نہ اس کا اس پیشگوئی میں کچھ اشارہ ہے جواب بیان کی جاتی ہے کہ وہ ابھی باقی ہے اور جس کا انجام آتھم سے حوالہ دیا گیا ۔ ۱۸۹۳ء کی ابتدائی پیشگوئی اس طرح ہے ( وہ فریق جو دانستہ جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور ضعیف انسان کو خدا بنارہا ہے ہلاک ہوگا وغیرہ وغیرہ ) اور وہ شخص جو سچے خدا کو مان رہا ہے بڑی عزت پائے گا۔ لفظ ضعیف آدمی کو خدا بنانا صاف طور سے فریق کا تعلق عیسائی گروہ سے ظاہر کرتے ہیں جس فریق میں سے ڈاکٹر کلارک بھی ہے اور قیاسا ” وہ شخص وہ شخص جس کا بعد ازاں ذکر ہے م ہے مرزا صاحب ہے۔ مرزا صاحب اس سے انکار کرتے ہیں کہ الفاظ فریق اور شخص کا اطلاق کسی خاص شخص پر تھا اور بیان کرتے ہیں کہ ہر صورت میں صرف ان کا اشارہ عبد اللہ آتھم ان کا اشارہ عبد اللہ آتھم سے تھا نہ ڈاکٹر کلارک گئے۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ وہ الفاظ جوان کی طرف سے استعمال کئے گئے ہیں اس بات کی تائید نہیں کرتے بقیه حاشیه ☆ مذہب بڑے زور شور سے دنیا میں پھیل گیا اور جیسا کہ آثار میں پہلے سے لکھا گیا تھا، بڑے تشدد سے میری تکفیر بھی ہوئی ۔ غرض تمام علامات ظاہر ہو چکی ہیں اور وہ علوم اور معارف ظاہر ہو چکے ہیں جو دلوں کو حق کی طرف ہدایت دیتے ہیں ۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کی رو سے کوئی دعوئی مامور من اللہ ہونے ۲۶۱ کا اکمل اور اتم طور پر اس صورت میں ثابت ہو سکتا ہے کہ جبکہ تین پہلو سے اس کا ثبوت یہ ضرور نہیں کہ الہامی پیشگوئیوں کے پہلو یکدفعہ معلوم ہو جائیں اسی لئے ہمارے خیال میں ابتدا سے یہی رہا کہ یہ پیشگوئی خاص آتھم کے متعلق ہے اور آتھم کے نام ہی بار بار اشتہار جاری ہوئے اور اسی کو قسم کے لئے بلایا گیا۔ ہاں جبکہ بعض اور عیسائیان شریک بحث پر بھی اس پیشگوئی کا اثر پڑا تو یہ سمجھا گیا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی اس میں داخل ہوں گے مگر دراصل ابتدا سے ہمارا علم یہی تھا کہ اس پیشگوئی کا مصداق صرف آتھم ہے ہماری نیت میں کبھی کوئی اور نہ تھا۔ ہاں دوسروں پر ہم نے اثر دیکھا۔ ورنہ ہم نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ جیسا کہ عبد اللہ آتھم اس پیشگوئی میں شریک ہے ایسا ہی دوسرے بھی شریک ہیں اسی لئے ہماری پوری اور اصلی توجہ صرف آتھم کی طرف رہی اور اب تک اسی کو اصلی مصداق پیشگوئی کا سمجھتے ہیں اور اسی کے قسم نہ کھانے اور آخر پیشگوئی کے موافق اسی کے فوت ہو جانے سے ہم نے فائدہ اٹھایا نہ کہ دوسروں سے ۔منہ