ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 630

ضرورة الامام — Page 285

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۸۵ كتاب البرية سے جو ایک رسالہ مصنفہ مرزا صاحب ہے جس میں مرزا صاحب نے تین مختلف مذاہب کے تین نامی آدمیوں عبداللہ العظم احمد بیگ اور لیکھرام کی موت کی نسبت پیشگوئی کی تھی پیش کیا۔ ہتھم اور احمد بیگ کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی لیکن لیکھر ام حال ہی میں میعاد مقررہ کے اندر بُری طرح سے کسی نامعلوم شخص کے ہا وم شخص کے ہاتھ سے قتل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر کلارک نے بیان کیا کہ غلام احمد کی یہ پالیسی ہے کہ اپنے مخالفوں کے دلوں میں ان کی ہلاکت کی پیشگوئی کر کے خوف بٹھانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس کا سلوک اس کے یعنی ڈاکٹر کلارک کی نسبت ما بعد مباحثہ لگا تارکینہ و رہا ہے۔ زیادہ تر خاص کر کے آتھم کی وفات کے روز سے ڈاکٹر کلارک بجائے اس کے عیسائی سر گروہ سمجھا جاتا ہے۔ ۲۴۸ ایک انتخاب اس رسالہ سے پیش کیا گیا ہے جس کو انجام آتھم کہتے ہیں اور جس کو غلام احمد نے شائع کیا ہے جس میں بموجب تصریح ڈاکٹر کلارک یہ بیان ہے کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا اور ابدی لعنت کو ماننا نہیں لازم آگیا ۔ اور یہ کہنا کہ ابدی لعنت یسوع پر نہیں پڑ سکتی ۔ یہ ایک نیا دعوی ہے ۲۴۸ جس کا ثبوت اب تک عیسائیوں نے توریت کے رو سے نہیں دیا ۔ در حقیقت عیسائی لوگ بڑی مصیبت میں ہیں۔ کیونکہ اگر فرض محال کے طور پر بلا دلیل یہ بھی مان لیا جائے کہ اوروں پر تو ابدی لعنت صلیب سے پڑتی ہے مگر یسوع پر صرف تین دن تک پڑی تو اس سے بھی عیسائی جھوٹے ٹھہرتے ہیں پھر اسی کتاب کے صفحہ ۹۲ سطر ۱۴-۱۵ میں سزا کی تشریح دیکھی ہے ۔ ” دیندار لوگ مرتے وقت و ہی آرام کی جگہ میں داخل ہوتے ہیں اور بے دین اسی وقت دوزخ میں گرتے ہیں اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع نے سب گناہ اپنے پر لے کر ضرور جہنم کی سزا اٹھائی۔ اور و رسالہ معمودية البالغين کے صفحہ ۲۹۱ سطر او۲ میں یسوع کی نسبت عیسائیوں کا عقیدہ یہ لکھا ہے صلب ومات و قبر و نزل الى الجحيم، یعنی یسوع مصلوب ہوا اور مر گیا اور قبر میں داخل ہوا اور جہنم میں اترا۔ اب ان تمام عبارتوں سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح جہنم میں گیا اور اس نے ساری سزائیں اٹھائیں ۔ عیسائی اس بات کے بھی قائل بقیه حاشیه حال کی بعض عیسائی کتابوں میں بجائے جہنم ہارس لکھا ہے جو ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنے ہاو یہ ہے جس کو عبرانی میں ہادث کہتے ہیں۔ در حقیقت یہ دونوں لفظ ہارس اور ہادت عربی کے لفظ هاویہ سے لئے گئے ہیں۔ منہ