ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 630

ضرورة الامام — Page 274

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۷۴ كتاب البرية ۲۳۹ بات کے کہنے پر عبدالحمید ہمارے پاؤں پر گر پڑا اور زار زار رونے لگا۔ بڑا پشیمان معلوم ہوتا تھا ۲۳۹ اور کہا کہ میں اب سچ سچ بیان کرتا ہوں جو اصل واقعہ ہے اور تب اس نے وہ بیان ہمارے رو بر وئے کہا جو ہم نے حرف بحرف اس کی زبان سے لکھا اور عدالت میں پیش ہے۔ ہم نے تب ڈپٹی کمشنر بہادر کو تار دی اور گواہ کو گورداسپور لائے ۔ وہ جب سے بیان لکھا ہے ہمارے احاطہ میں رہتا ہے اور اپنی مرضی سے جہاں جی چاہتا ہے آتا جاتا ہے۔ آج صبح عبدالحمید نے ہم سے کہا تھا کہ ایک شخص نے ( عبدالغنی ۔ یاد دلانے پر گواہ نے نام کی بابت کہا کہ یہی نام ہے ) اس کو کہا ہے کہ پہلے بیان کے مطابق پھر بیان لکھوانا ورنہ قید ہو جاؤ گے۔ ہمارے خدمتگاروں نے اس شخص کو دیکھا تھا جب عبدالحمید ہم کو کہنے آیا تو معلوم ہوا کہ عبد الغنی احاطہ سے چلا گیا تھا۔ ڈاکٹر گرے صاحب نے ہم سے دریافت کیا تھا اور انہوں نے ہم کو چٹھی لکھی ہے جو پیش کی جاتی ہے۔ حرف ۷۔ دستخط بخط انگریزی۔ سنایا گیا درست ہے تسلیم ہوا۔ دستخط حاکم نقل بیان وارث دین گواه مخلف بمقدمہ فوجداری اجلاسی مسٹر ایم ڈبلیوڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر گورداسپور سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزاغلام احمد قادیانی جرم ۰۷ ا ضابطہ فوجداری مهر عدالت دستخط حاکم ۲۰ را گست ۹۷ ۔ بیان وارث دین گواہ مکلف ۔ ولد احسان علی ذات عیسائی ساکن جنڈیالہ عمرے سال بیان کیا کہ جب محمد بخش تھا نہ دار عبد الحمید کو بقيه حاشيه تنگ کرنا شروع کیا کہ یسوع نعوذ باللہ لعنتی اور خدا سے دور اور مہجور تھا تبھی تو مصلوب ہو گیا ۔ اور یسوع گو زندہ بچ گیا تھا مگر اس کا پھر ظالم یہودیوں کے سامنے جانا مصلحت نہ تھی اس لئے عیسائیوں نے یہ بات کہہ کر پیچھا چھڑایا کہ فلاں عورت یا مرد کے رو بروئے یسوع لعنت کے دنوں کے بعد آسمان پر چلا گیا ہے ۔ مگر یہ بات یا تو بالکل جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا ۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہوتا کہ یسوع کو جسم کے سمیت آسمان پر پہنچادے اور اس طرح پر مشاہدہ کرا کر لعنت کے داغ سے پاک کرے تو ضروری تھا کہ دس