ضرورة الامام — Page 259
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۵۹ كتاب البرية آیا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ بچہ ہے یہ ایسا کام کس طرح کر سکتا ہے۔ پھر مجھے بیاس میں بھیج دیا۔ عبدالرحیم نے مجھے دو تین دفعہ یہ بات کہی کہ مجھے پیتل گیا ہے کہ تم کس کام کے واسطے آئے ہو۔ میں نے کہا کہ میں صرف عیسائی ہونے آیا ہوں اور کسی کام ۲۲۴ کے واسطے نہیں آیا۔ پھر میں بیاس چلا گیا۔ وہاں عبدالرحیم دو روز کے بعد آیا۔ چار بجے دن کے وقت آیا تھا۔ مجھ سے ملا۔ ہسپتال میں جہاں میں پڑھ رہا تھا۔ مجھے کہا کہ بتلا ؤ تم کس طرح آئے ہو کہ ہم کو پتہ لگ گیا ہے۔ سچ بتلاؤ ورنہ کپتان صاحب پولیس کے حوالہ کر دیں گے۔ میں نے کہا کہ عیسائی ہونے آیا ہوں اور کوئی بات نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ تم خون کرنے آئے ہو۔ مگر یہ نہیں کہا تھا کہ کس کو مارنے کے واسطے۔ پھر وہ چلا گیا۔ دوسرے تیسرے روز ڈاکٹر صاحب معہ یوسف خان اور ایک اور بوڑھا سا آدمی کے آئے ۔ اور میرا فوٹو ڈاکٹر صاحب نے اتارا اور امرتسر چلے آئے ۔ اس وقت اور نوکروں کی بھی تصویر میں لیں۔ اس وقت تک کوئی ذکر ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے نہیں کیا۔ اس کے بعد دو روز گذر کرتار آئی کہ ڈاکٹر صاحب مجھے امرتسر بلاتے ہیں۔ ایک سانپ مارا۔ بھگت پریم داس۔ لگت پریم داس نے مارا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ یہ سانپ مرا ہوا ساتھ لے جاؤ صاحب کو دکھلانا۔ اسٹیشن پر سے محمد یوسف مجھے کوٹھی پر لے گیا اور وہاں میرا فوٹو لیا گیا۔ خراب نکلا۔ پھر مجھے ڈاکٹر صاحب نے محمد یوسف کے ہمراہ بازار میں بھیجا اور وہاں میری بقيه حاشيه علاوہ ان سب امور کے ایک عظیم الشان علامت مسیح موعود کی احادیث صحیحہ میں دیکھی ۲۲۴ گئی ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جبکہ صلیبی مذہب زمین پر بڑے جوش سے پھیلا ہوا ہوگا۔ جیسا کہ حدیث یکسر الصليب جو صحیح بخاری میں ہے اس پر دلالت کرتی ہے۔ سوایسے وقت میں اور ایسے زمانہ میں یہ عاجز آیا ہے۔ اور دوسری علامت اشارات احادیث سے مسیح موعود کے لئے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ ممالک مشرقیہ میں مبعوث ہو گا ۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا پتہ و نشان مشرق ہی بتلایا تھا ۔ جیسا کہ حدیث و أو مَى إلى المشرق سے ظاہر ہے