ضرورة الامام — Page 250
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۵۰ كتاب البرية دیکھا ہے ذاتی واقفیت نہیں ہے رات کے وقت قادیاں گیا تھا۔ عبدالحمید صبح قادیاں گیا ہے گنگا رام کو جانتا ہوں۔ وہ مدرس تھا قادیاں میں اور وہ بھی قادیاں عبد الحمید کے ساتھ گیا ہے۔ گنگا رام کو میں جانتا ہوں کہ آریہ ہے۔ بسوال پیروکار غسلخانہ کا ایک دروازہ ہے جو بند ہو جاتا ہے۔ اس کے اوپر ایک منزل ہے۔ صاف میدان اور عام طور پر نماز میں استعمال آتا ہے اور اُس جگہ مرزا صاحب بھی آتے ہیں۔ مسجد میں سے ایک دروازہ مرزا صاحب کے مکان کو جاتا ہے اور ایک سیڑھیوں میں سے۔ دستخط بخط انگریزی۔ سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم ۲۶) نقل بیان گواه استغاثه بصیغه فوجداری اجلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور ۲۱۶ سرکار بذریعہ ڈاکٹر ر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۰۷ ا ضابطہ فوجداری ۱۳ اگست ۹۷ء مولوی محمد حسین گواه استغاثه با قرار صالح ولد شیخ رحیم بخش ذات شیخ ساکن بٹالہ عمر طه سال بیان کیا کہ میں مرزا صاحب کو بہت دیر سے جانتا ہوں ۔ انہوں نے بہت پیشگوئیاں کی ہیں ۔ ۲۰-۲۵ پیشگوئیاں کی ہیں ۔ انجام آتھم میں دلوں میں بھرا ہوا ہے اور وہ تو وہ دوسرے لاکھوں انسان ان کی تعجب انگیز طبعی تحقیقاتوں اور عجیب در عجیب ایجادوں اور حکمت عملیوں سے اس عظمت کی نظر سے ان کو دیکھتے ہیں کہ گویا ایک حصہ خدائی کا ان میں ثابت کر رہے ہیں۔ چنانچہ یہ ہمارا ایک چشم دید ماجرا ہے کہ ایک ہندو جو ایک معزز عہدہ پر تھا اس کے رو بروئے کچھ ذکر خدا تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کا ہوا تو اس نے بڑے غیظ اور غضب میں آ کر کہا کہ لوگ جب گنہ اشیاء کے سمجھنے سے عاجز آ جاتے ہیں تو خدا کی قدرت بیان کرنے لگتے ہیں۔ انگریزوں نے وہ خدائی دکھلائی ہے کہ قدرتوں کا پردہ کھول دیا ہے اور طبعی تحقیقا تیں انسان کو خدائی کا مرتبہ دیتی جاتی ہیں ۔ سواس ہندو نے جو انگریزوں کو خدا ٹھہرا دیا اس کی یہی وجہ تھی کہ ان کی عجائب صنعتیں اس کے خیال میں ایسی عظیم الشان معلوم ہوئیں جو اس نے خدا کے وجود کو غیر ضروری سمجھا اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ اثر مسلمانوں خاص کر نو تعلیم یافتہ لوگوں میں قيه حاشيه