ضرورة الامام — Page 230
۱۹۷ روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳۰ كتاب البرية ہم مرزا صاحب کو چٹھی لکھتے ہیں کہ یہ شخص عیسائی ہونے کو آیا ہے میں نے منع کیا تھا۔ اس لئے کہ جب بپتسمہ ہو جاوے تب چٹھی لکھنا۔ آج میں قادیاں گیا تھا۔ عبدالرحیم اور دو سپاہی اور وارث دین ۔ دو سپاہی اور بھی ساتھ گئے ۔ ( بسوال پیروکار) ایک دفعہ پہلے پہل بھی مرزا صاحب مجھے اُس اوپر والے کمرہ میں لے گئے تھے۔ خیر الدین کی مسجد واقعہ امرتسر میں میں سو گیا تھا۔ اس لئے ٹھہر گیا ۔ مجھ سے پوچھا نہ گیا اس لئے میں نے پہلے اقبال نہیں کیا تھا۔ سلطان محمود نے مجھے قرآن پڑھایا تھا۔ چا برہان الدین مالا کھنڈ نہیں گیا تھا۔ دونوں دفعہ جب میں امرتسر کوٹھی پر ملا تھا ڈاکٹر صاحب خوشی سے ملے تھے دونوں دفعہ از خود گیا تھا۔ بلایا نہ گیا تھا۔ بیاس جاتے وقت طلب کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے جھڑ کی برانڈہ میں نکل کر نہیں دی تھی کہ کیوں بے بلائے آئے ہو۔ عبد الحمید (دستخط حاکم) قيه حاشيا بقي سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم اور ان میں زاہد اور راہب اور ربانی بھی تھے وہ سب ان کے کفر پر متفق ہو گئے کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ یہ شخص ظاہر نصوص کو چھوڑتا ہے۔ یہ تمام فتنہ صرف اس بات سے پڑا کہ حضرت مسیح نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے بارے میں یہ تاویل پیش کی تھی کہ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو اس کی خو اور طبیعت پر ہو۔ اور وہ یوحنا یعنی یحییٰ زکریا کا بیٹا ہے مگر یہ تاویل یہودیوں کو پسند نہ آئی۔ اور جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے انہوں نے ان کو ملحد قرار دیا کہ جو نصوص کو ان کے ظاہر سے پھیرتا ہے۔ لیکن چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام در حقیقت سچا نبی تھا اور ان کی تاویل بھی گو بظا ہر کیسی ہی بعید از قیاس تھی مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک درست تھی اس لئے بعض لوگوں کے دلوں میں میں یہ بھی خیال تھا کہ اگر یہ شخص جو یہ شخص جھوٹا ہے تو راستبازی کے انوار کیوں اس میں پائے جاتے ہیں اور کیوں سچے رسولوں کی طرح اس سے نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔ پس اس خیال کے دور کرنے کے لئے یہودیوں کے مولوی ہر وقت