تحفة الندوہ — Page 441
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳۹ نسیم دعوت انتہا تک پہنچا دیا اور حیا اور شرم کے جامہ سے بالکل علیحدہ ہو کر یہ بھی لکھ دیا کہ ایک عورت جو خاوند زندہ رکھتی ہے اور وہ کسی بدنی عارضہ کی وجہ سے اولاد نرینہ پیدا نہیں کر سکتا مثلاً لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں یا باعث رقت منی کے اولاد ہی نہیں ہوتی یا وہ شخص کو جماع پر قادر ہے مگر بانجھ عورتوں کی طرح ہے یا کسی اور سبب سے اولاد نرینہ ہونے میں توقف ہوگئی ہے تو ان تمام صورتوں میں اس کو چاہیے کہ اپنی عورت کو کسی دوسرے سے ہم بستر کراوے اور اس طرح پر وہ غیر کے نطفہ سے گیارہ بچے حاصل کر سکتا ہے گویا قریباً بیس برس تک اس کی عورت دوسرے سے ہم بستر ہوتی رہے گی جیسا کہ ہم نے مفصل کتاب کے حوالہ سے یہ تمام ذکر اپنے رسالہ آریہ دھرم میں کر دیا ہے اور حیا مانع ہے کہ ہم اس جگہ وہ تمام تفصیلیں لکھیں۔ غرض اس عمل کا نام نیوگ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ اصول انسانی پاکیزگی کی بیخ کنی کرتا ہے اور اولاد پر نا جائز ولادت کا داغ لگاتا ہے اور انسانی فطرت اس بے حیائی کو کسی طرح قبول نہیں کر سکتی کہ ایک انسان کی ایک عورت منکوحہ ہو جس کے بیاہنے کے لئے وہ گیا تھا۔ اور والدین نے صدہا یا ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے اس کی شادی کی تھی جو اُس کے ننگ وناموس کی جگہ تھی اور اس کی عزت و آبرو کا مدار تھا وہ باوجود یکہ اس کی بیوی ہے اور وہ خود زندہ موجود ہے اس کے سامنے رات کو دوسرے سے ہم بستر ہو دے اور غیر انسان اس کے ہوتے ہوئے اسی کے مکان میں اُس کی بیوی سے منہ کالا کرے اور وہ آوازیں سنے اور خوش ہو کہ اچھا کر رہا ہے اور یہ تمام نا جائز حرکات اس کی آنکھوں کے سامنے ہوں اور اس کو کچھ بھی جوش نہ آوے۔ اب بتلاؤ کہ کیا ایسا شخص جس کی منکوحہ اور سہروں ۷۲ مجھے ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں کہ نیوگ میں یعنی اپنی بیوی کو دوسرے سے ہم بستر کروا کر صرف گیا لاہ بچوں تک لینے کا حکم ہے یا زیادہ۔ مدت ہوئی کہ میں نے ستیارتھ پر کاش میں پڑھا تو تھا مگر حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا۔ آر یہ صاحبان خود مطلع فرماویں کیونکہ بوجہ روز کی مشق کرانے کے اُن کو خوب یاد ہوگا ۔ منہ