تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 566

تحفة الندوہ — Page 190

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۹۰ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح وَسَوْفَ تَرَى أَنِّي صَدُوقٌ مُؤَيَّدٌ وَلَسْتُ بِفَضْلِ اللَّهِ مَا أَنْتَ تَسْطُرُ اور عنقریب تو دیکھے گا کہ میں سچا ہوں اور مدد کیا گیا ہوں۔ اور میں خدا کے فضل سے ایسا نہیں جیسا کہ تو لکھتا ہے وَيُبْدِى لَكَ الرَّحْمَانُ اَمْرِى فَيَنْجَلِي اَ إِنِّي ظَلَامٌ أَوْ مِنَ اللَّهِ نَيْرُ اور خدا میری حقیقت تیرے پر ظاہر کرے گا پس کھل جائے گا کہ کیا میں تاریکی ہوں یا نور ہوں ارِيكَ وَغَدَّارَ الزَّمَانِ اَبَا الْوَفَا يَدَ اللَّهِ فَالضَّوْضَاةُ يُخْفَى وَيُسْتَرُ میں تجھے اور غدار زمانہ ثناء اللہ کو دکھلاؤں گا خدا کا ہاتھ ۔ پس شور و فر یا دسب موقوف ہو جائے گی وَيَعْلَمُ رَبِّي مَنْ تَصَلَّفَ وَافْتَرَى وَمَنْ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ بَرٌ مُطَهَّرُ اور خدا میرا جانتا ہے کہ شریر اور مفتری کون ہے اور کون وہ ہے جو اس کے نزدیک نیک اور پاک ہے ﴿۸﴾ اَتُطْفِئُ نُورًا قَدْ أُرِيدَ ظُهُورُهُ لَكَ الْبُهْرُ فِي الدَّارَيْنِ وَ النُّورُ يَبْهَرُ کیا تو اس نور کو بجھانا چاہتا ہے جس کا ظاہر کرنا ارادہ کیا گیا ہے۔ تجھے دونوں جہانوں میں بدبختی ہے اور نور ظاہر ہوکر رہے گا أَلَا إِنَّ وَقْتَ الدَّجْلِ وَالزُّوْرِ قَدْ مَضَى وَجَاءَ زَمَانٌ يُحْرِقُ الْكِذْبَ فَاصْبِرُوا خبر دار ہو۔ جھوٹ اور فریب کا وقت گزر گیا ۔ اور وہ زمانہ آ گیا جو جھوٹے کو جلا دے گا پس صبر کر وَإِنْ كُنْتَ قَدْ جَاوَزْتَ حَدَّ تَوَرُّعٍ فَكَفِّرُ وَ كَذَّبُ أَيُّهَا الْمُتَهَوِّرُ اور اگر تو پر ہیز گاری کی حد سے آگے گزر گیا ہے۔ پس مجھے کافر کہہ اور تکذیب کر ۔ اے دلیر آدمی ! أَيَا أَيُّهَا الْمُوْذِى خَفِ الْقَادِرَ الَّذِي يَشُجُ رُؤُوسَ الْمُعْتَدِينَ وَيَقْهَرُ اے دکھ دینے والے! اس قادر خدا سے خوف کر ۔ جو تجاوز کرنے والوں کا سر توڑتا ہے اور ان پر قہر نازل کرتا ہے إِذَا مَا تَلَظَّى قَهْرُهُ يُهْلِكُ الْوَرى فَلَيْسَ بِوَاقٍ بَعْدَهُ يَا مُزَوِّرُ جب اس کا قہر بھڑکتا ہے تو لوگوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔ پھر اس کے بعد اے مزور ! کوئی بچانے والا نہیں ہوتا وَلَسْتَ تُرَاعِي نَهْجَ رِفْقٍ وَلِيْنَةٍ كَدَابِ شَنَاءِ اللَّهِ تُؤْذِى وَتَأْبُرُ اور تو نرمی کی راہ کی رعایت نہیں رکھتا ۔ اور مولوی ثناء اللہ کی طرح نیش زنی کرتا ہے