تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 566

تحفة الندوہ — Page 152

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۵۲ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح تَحَرَّوْا لِهَذَا الْبَحْثِ أَرْضًا شَجِيرَةً إِلَى الْجَانِبِ الْغَرْبِيِّ وَالْجُنُدُ جُمِّرُوا اور بحث کیلئے ایک زمین اختیار کی گئی جس میں کئی ایک درخت تھے۔ اور وہ جگہ گاؤں سے باہر غربی طرف تھی اور ہمارے دوست وہاں ٹھہرائے گئے فَكَانَ ثَنَاءُ اللهِ مَقْبُولَ قَوْمِهِ وَمِنَّا تَصَدَّى لِلتَخَاصُمِ سَرُوَرُ اور ثناء اللہ اس کی قوم کی طرف سے مقبول تھا۔ اور ہماری طرف سے مولوی سید محمد سرور شاہ پیش ہوئے كَانَّ مَقَامَ الْبَحْثِ كَانَ كَاجُمَةٍ بِهِ الذَّئْبُ يَعْوِي وَالغَضَفَرُ يَزْءَ رُ گو یا مقام بحث ایک ایسے بن کی طرح تھا۔ جس میں ایک طرف بھیڑیا چیختا تھا اور ایک طرف شیر غراتا تھا وَقَامَ ثَنَاءُ اللهِ يُغْوِى جُنُودَهُ وَيُغْرِى عَلَى صَحْبِى لِنَامًا وَ يَهْذُرُ اور کھڑا ہوا ثناء اللہ اپنی جماعت کو اغوا کر رہا تھا۔ اور میرے دوستوں پر برانگیختہ کرتا تھا وَكَانَ طَوَى كَشُحًا عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ وَ مَا رَادَ نَهْجَ الْحَقِّ بَلْ كَانَ يَهْجُرُ اور اُس نے کینہ کو اپنے دل میں ٹھان لیا۔ اور حق جوئی نہ کی بلکہ بکواس کرتا رہا سعَى سَعْيَ فَتَانِ لِتَكْذِيبِ دَعْوَتِي وَكَانَ يُدَرِّي مَا تَجَلَّى وَيَمْكُرُ اس نے فتنہ انگیز آدمی کی طرح میری دعوت کی تکذیب کی کوشش کی ۔ اور وہ حق پوشی کر رہا تھا اور مکر کر رہا تھا وَأَظْهَرَ مَكْرًا سَوَّلَتْ نَفْسُهُ لَهُ وَلَمْ يَرْضَ طُولَ الْبَحْثِ فَالْقَوْمُ سُجِّرُوا اور ایک مکر اُس نے ظاہر کیا جو اُس کے دل میں پیدا ہوا۔ اور لمبی بحث سے انکار کیا اور قوم اُس کے فریب میں آگئی فَشَقَّ عَلَى صَحْبِى طَرِيقٌ اَرَادَهُ وَقَدْظُنَّ أَنَّ الْحَقَّ يُخْفَى وَيُسْتَرُ پس میرے دوستوں پر وہ طریق گراں گزرا جس کا اُس نے ارادہ کیا۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ اس سے حق پوشیدہ رہ جائے گا اس میں سہو کتابت ہے اصل عبارت یوں ہوگی ۔ جس میں کئی ایک درخت تھے۔“‘ کا تب سے جب سہواً ” کئی“ کا لفظ چھوٹ گیا تو تصحیح عبارت کے لئے تھے کو تھا بنادیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں یہ شکایت کی گئی کہ بعض جگہ ہو کا تب سے غلطیاں رہ گئی ہیں ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ” یہ کوئی غلطی نہیں ہوا کرتی کیونکہ ساتھ ہی ترجمہ ہے اگر کوئی لفظ عربی ہے اور نقطہ وغیرہ کی غلطی ہے تو نیچے ترجمہ اس کی صحت کرتا ہے۔ اور اگر ترجمہ میں کوئی غلطی صحت سے رہ گئی ہے تو پھر اصل عبارت عربی موجود ہے۔ اس سے صحت ہو جاتی ہے۔“ (البدر ۶ ارنومبر ۱۹۰۲ء)