تحفة الندوہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 566

تحفة الندوہ — Page 101

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۰۱ تحفة الندوه کہ ایسے لوگ کن قبروں میں دفن کئے گئے کیا مسلمانوں کی قبروں میں یا علیحدہ اور اسلامی سلطنہ کی میں قتل ہوئے یا امن سے عمراً سے عمر گزاری۔ حافظ صاحب - احب سے تو یہ ثبوت طلب کیا جائے اور پھر میرے معجزات اور دیگر دلائل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے طلب ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ کے قادیان میں آویں اور مجھ سے معجزات اور دلائل یعنی نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا ثبوت لیں پھر اگر سنت انبیاء علیہم السلام کے مطابق میں نے پورا ثبوت نہ دیا تو میں راضی ہوں کہ میری کتابیں جلائی جائیں لیکن اس قدر محنت اٹھانا بڑے باخدا کا کام ہے ندوہ کو کیا ضرورت جو اس قدر سر درد اٹھاوے اور کونسا فکر آخرت ہے تا خدا سے ڈرے مگر ندوہ کے علماء ایک ایک کر کے یا درکھیں کہ وہ ہمیشہ اس دنیا میں نہیں رہ سکتے موتیں پکار رہی ہیں اور جس لہو ولعب میں وہ مشغول ہو رہے ہیں جس کا نام وہ دین رکھتے ہیں خدا آسمان پر دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے کہ وہ دین نہیں ہے وہ ایک چھلکے پر راضی ہیں اور مغز سے بے خبر ہیں یہ اسلام کی خیر خواہی نہیں بلکہ بدخواہی ہے۔ کاش اگر ان کی آنکھیں ہوتیں تو وہ سمجھتے کہ دنیا میں بڑا گناہ کیا گیا کہ خدا کے مسیح کو رد کر دیا گیا اس بات کا ہر ایک کو مرنے کے بعد پتہ لگے گا اور حافظ صاحب مجھے ڈراتے ہیں کہ تم اگر امرتسر میں نہ آئے تو اپنے دعوئی میں تمام دنیا میں کا ذب سمجھے جاؤ گے۔ اے حافظ صاحب! دنیا کس کی ہے خدا کی یا آپ کی ۔ آپ لوگ تو اب بھی مجھے کا ذب ہی سمجھ رہے ہیں ۔ اس کے بعد اور کیا سمجھیں گے۔ آپ کی دنیا کی ہمیں کیا پر واہ۔ ہر ایک نفس میرے خدا کے قدموں کے نیچے ہے۔ اے بداندیش حافظ سن۔ تجھے کیا خبر کہ کس قدر خدا کی تائید میری ترقی کر رہی ہے۔ حاسد اگر مر بھی جائے تو یہ ترقی رک نہیں سکتی کیونکہ خدا کے ہاتھ سے اور خدا کے وعدہ کے موافق ہے نہ انسان کے ہاتھ سے ۔ خدا نے میری جماعت سے پنجاب اور ہندوستان کے شہروں کو بھر دیا۔ چند سال میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ اشخاص نے میری بیعت کی ۔ کیا ابھی آپ نہیں سمجھتے کہ آسمان پر کس کی تائید ہو رہی ہے۔ میرے خیال میں تو دس ہزار اسلام کی سلطنت میں ثبوت دینے میں یہ کافی نہیں کہ ایسا شخص جو مدعی نبوت تھا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا اور نہ اس کا جنازہ پڑھا گیا بلکہ کافی ثبوت کے لئے یہ ثابت کرنا بھی ہوگا کہ وہ قتل بھی کیا گیا کیونکہ وہ مرتد تھا لیکن حافظ صاحب اگر یہ ثبوت دیدیں تو گویا جس امر سے بھاگتے تھے اُسی کو قبول کر لیں گے۔ منہ