تحفة الندوہ — Page 91
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۹۱ تحفة الندوه کشتی نوح ہے یہ نظم میر ناصر نواب صاحب دہلوی و دعوت الایمان تازہ ہوتا ہے اس کو پڑھ کر دیں آب حیات سے بہتر اس کی تعریف سے ہوں میں عاجز گھر ہوں کی ہے رہنما یہ کتاب بیکسوں کی ہے تکیہ گاہ یہی ہیں مضامین اس کے لاثانی اس سے کھلتے ہیں دین کے عقدے علم آتا ہے جہل جاتا ہے باغ دنیا نہیں جنت ہے اس میں ہیں شیر و شہد کی نہریں کشتی بے نظیر ہے یہ مفت یہ ہے عجب اک کتاب عالی شان اس سے بڑھتی ہے رونق ایمان مرده روحوں کو بخشتی ہے جان وصف سے اس کے لال میری زبان ہے ہدایت کا ان کے یہ سامان لا علاجوں کا اس میں ہے درمان ہے خدا کے رسول کا یہ نشان غور سے گر اسے پڑھے انسان دور ہوتے ہیں اس سے وہم و گمان جس میں پھرتے ہیں حور اور غلمان جا بجا اس میں قصر عالی شان کوئی اجرت کا یاں نہیں خواہان جس نے ہم کو عطا یہ کشتی کی دے توفیق ناصر عاجز ایسے ملاح پر ہیں ہم قربان کیونکہ تو ہے رحیم اور رحمان یا الہی تو ہم کو دور ہوں ہم سے نفس کے جذبات ہم سے بھاگے پرے پرے شیطان تیرے حکموں پہ ہم چلیں دن رات دل سے ہم مان لیں ترے فرمان ہم سے تو خوش ہو تجھ سے ہم راضی جسم سے جب ہمارے نکلے جان تیرا بندہ ہے چاہتا ہے یہ تجھ سے تیری امان تیری رحمت کا تجھ سے خواہاں ہے فضل کا تیرے تجھ سے ہے جو یان دور کر اس کے بوجھ اے مولی راستہ اپنا اس کر آسان اتقیا میں اسے بھی شامل کر رحم کر رحم اس پر اے سُبحان ڈھانک دے اس کے عیب اے ستار کہ یہ رکھتا ہے تجھ پہ نیک گمان درد کا اس کے جلد کر درمان بطفیل محمد و احمد دل سے اپنے یہ ہے غلام امام کر مدد اس کی ظاہر و پنہان به