تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 417

تحفہٴ بغداد — Page 347

مضامین آ۔۱ اللہ تعالیٰ جل جلالہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں تکالیف اٹھانے والوں کو ضائع نہیں کرتا ۸ اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ۷۲،۹۰ اللہ تعالیٰ وحید و فرید لاشریک لذاتہ اور قوی اور علیّ اور اسی کے لئے ملک اور ملکوت اور مجد ہے ۹۰ جب کسی بندہ کو شریک بنایا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا مثیل اور اس کا نام دے کر کسی کو بھیجتا ہے تاکہ شرک کی بیخ کنی ہو ۱۳۲ الحمدللہ میں مسلمانوں کو تعلیم ہے کہ ان کا معبود ہر قسم کی حمد اور کمالات کا جامع ہے ۱۱۰ اللہ تعالیٰ جب بندے کے لئے بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے نیکی اور امت کے احیاء کی فکرعطا کرتا ہے ۱۷۶ عرش الہٰی عرش الہٰی کی حقیقت،اللہ تعالیٰ کا اس پر قائم ہونا اورقیامت کے دن آٹھ فرشتوں کا عرش الٰہی اٹھانے کی حقیقت ۱۲۹، ۱۳۱ صفات الٰہیہ اللہ تعالیٰ کی صفات غیور،غفور،خالق ۷۲،۸۰،۹۰ صفت وحید ،فرید،قادر،متکبر اور لاشریک ۷۷ صفت احد،صمد،وحید اور لاشریک ۱۳۱ صفت ربوبیت، رحمانیت،رحیمیت اور مالکیت ۱۲۸تا۱۳۰ رب العالمین ،الرح<mark>من</mark> ،الرحیم اور مالک یوم الدین ،اللہ تعالیٰ کے کامل فیوض کے چشمے ہیں ۱۱۰ الحمد للہ میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بارہ میں غلطی سے بچانے والا قانون ہے ۱۰۹ اللہ تعالیٰ کی صفت رب العالمین تمام صفات سے زیادہ وسیع تر ہے ۱۱۰،۱۱۱ اللہ تعالیٰ کی صفت الرح<mark>من</mark> کا فیضان فیضان اعم ہے۔اور اس سے صرف جاندار اشیاء ہی نفع حاصل کرتی ہیں ۱۱۱،۱۱۲ اللہ تعالیٰ کی صفت الرحیم کا فیضان فیضان خاص ہے اور یہ صفت نیک لوگوں کے لئے ہے ۱۱۳،۱۱۴ سورۃ الفاتحہ میں مذکور صفات باری تعالیٰ میں عیسائیت کا رد ہے ۱۱۴،۱۱۵ مالک یوم الدین کا فیضان فیضان اخص ہے۔یہ فیوض میں سب سے بڑا ،سب سے بلند ،سب سے جامع اور سب سے زیادہ مکمل اور تمام فیوض کا <mark>من</mark>تہیٰ ہے ۱۱۶ سورہ فاتحہ میں مذکور اللہ تعالیٰ کی صفات میں ایک ترتیب اور بلاغت پائی جاتی ہے ۱۱۷ صفات الہیہ میں پہلا س<mark>من</mark>در اسم ذات اللہ کا س<mark>من</mark>در ہے۔جس کے مقابل استفادہ کرنے والی آیت ایاک نعبد ہے ۱۱۷ صفات الہیہ میں سے دوسرا س<mark>من</mark>در رب العالمینکا ہے جس سے استفادہ کرنے والی آیت ایاک نستعین ہے ۱۱۷،۱۱۸ صفات الہیہ میں سے تیسرا س<mark>من</mark>در الرح<mark>من</mark> کا ہے جس سے آیت اھدنا الصراط المستقیم استفادہ کرتی ہے ۱۱۸ صفات باری تعالیٰ کا چوتھا س<mark>من</mark>در صفت الرحیم ہے جس سے صراط الذین انعمت علیھم استفادہ کرتی ہے ۱۱۸ پانچواں س<mark>من</mark>در مالک یوم الدین ، اس سے غیر المغضوب علیھم ولاالضآلین کی آیت مستفیض ہوتی ہے ۱۱۸،۱۱۹ الحمد للہ کے الفاظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ اس کے مطابق اثر دکھاتی ہیں جتنا بندہ کو ان پر ایمان ہو ۱۲۶