تحفۂ گولڑویہ — Page 38
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۸ ضمیمه تحفہ گولڑ و به ڈپٹی فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر نہر لاہوری ۔ منشی الہی بخش صاحب اکونٹ لاہور ۔ منشی عبد الحق صاحب اکو نٹنٹ پنشنز - مولوی محمد حسن صاحب ابوالفیض ساکن بھین ۔ مولوی سید عمر صاحب واعظ حیدرآباد ۔ علماء ندوۃ الاسلام معرفت مولوی محمد علی صاحب سیکرٹری ندوۃ العلماء۔ مولوی سلطان الدین صاحب جے پور ۔ مولوی مسیح الزمان صاحب استاد نظام حیدر آباد دکن ۔ مولوی عبدالواحد خان صاحب شاہجہانپور۔ مولوی اعزاز حسین خان صاحب شاہجہانپور مولوی ریاست علی خان صاحب شاہجہانپور ۔ سید صوفی جان شاہ صاحب میرٹھ ۔ مولوی اسحاق صاحب پٹیالہ۔ جمیع علماء کلکتہ و بمبئی و مدراس جميع سجادہ نشینان و مشائخ ہندوستان - جميع اہل عقل و انصاف و تقوی و ایمان از قوم مسلمان۔ واضح ہو کہ حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر نے اپنے نافہم اور غلط کار مولویوں کی تعلیم سے ایک مجلس میں بمقام لاہور جس میں مرزا خدا میں مرزا خدا بخش صاحب مصاحب نواب محمد علی خاں میرزاد صاحب اور میاں معراج الدین صاحب لاہوری اور مفتی محمد صادق صاحب اور صوفی محمد علی کلرک اور میاں چٹو صاحب لاہوری اور خلیفہ رجب دین صاحب تاجر لاہوری اور شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر اخبار الحکم اور حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور حکیم محمد حسین صاحب تاجر مر ہم عیسی اور میاں چراغ الدین صاحب کلرک اور مولوی یار محمد صاحب موجود تھے بڑے اصرار سے یہ بیان کیا کہ اگر کوئی نبی یا رسول یا اور کوئی مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے اور اس طرح پر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے تو وہ ایسے افترا کے ساتھ تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے یعنی افتر اعلی اللہ کے بعد اس قدر عمر پانا اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہو سکتی اور بیان کیا کہ ایسے کئی لوگوں کا نام میں نظیراً پیش کر سکتا ہوں جنہوں نے نبی یا رسول یا مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور تیس برس تک یا اس سے زیادہ عرصہ تک لوگوں کو سناتے رہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہمارے پر نازل ہوتا ہے حالانکہ وہ کا ذب تھے۔ غرض حافظ صاحب نے محض اپنے مشاہدہ کا حوالہ دے کر مذکورہ بالا دعوٹی پر زور دیا جس سے لازم آتا تھا کہ قرآن شریف کا وہ استدلال جو آیات مندرجہ ذیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منجانب اللہ ہونے