تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 484

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۸۴ اربعین نمبر ۴ کچھ نہیں مانگتے اور نہ ان کو بیعت کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں ۔ صرف ہمیں یہ منظور ہے کہ پیر صاحب کے پوشیدہ جو ہر اور قرآن دانی کے کمالات جس کے بھروسہ پر انہوں نے میری رڈ میں کتاب تالیف کی ، لوگوں پر ظاہر ہو جائیں ۔ اور شائد زلیخا کی طرح اُن کی منہ سے بھی ان حَصْحَصَ الْحَقُّ ل نکل آئے ۔ اور ان کے نادان دوست اخبار نویسوں کو بھی پتہ لگے کہ پیر صاحب کس سرمایہ کے آدمی ہیں مگر پیر صاحب دل گیر نہ ہوں ۔ ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور محمد حسین بھیں وغیرہ کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر له دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں ۔ فریقین کی تفسیر چارجز سے کم نہیں ہونی چاہیے اور اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵ فروری ۱۹۰۱ ء تک جو سنتر دن ہیں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گزر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا۔ اور اس کے کا ذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔ والسلام علی من اتبع الهدى المشتهر مرزا غلام احمد از قادیاں ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیاں یوسف ۵۲