تحفۂ گولڑویہ — Page 412
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۱۲ اربعین نمبر ۳ وما اصابك فمن الله الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم۔ الا انها فتنة من الله ليحب حبا جما ۔ حبًّا من الله العزيز الاكرم۔ عطاء الغير مجذوذ ۔ وفي الله اجرك ويرضى عنك ربك ويتم اسمك وعسى ان تحبوا شيئا وهو شر لكم وعسى ان تكرهوا شيئا وهو خير لكم والله ☆ يعلم وانتم لا تعلمون۔ ۔ا۔ ترجمہ : اے میرے احمد تجھے بشارت ہو۔ تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے اپنے ہاتھ سے تیرا درخت لگایا۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ اور تو میری درگاہ ۲۵ میں وجیہ ہے ۔ میں نے اپنے لئے تجھے چنا ۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید ۔ پس وقت آگیا ہے کہ تو مدد دیا جائے اور لوگوں میں تیرے نام کی شہرت دی ہائے ۔ اے احمد ! تیرے لبوں میں نعمت یعنی حقائق اور معارف جاری ہیں ۔ اے احمد ! تو برکت دیا گیا اور یہ برکت تیرا ہی حق تھا خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی قرآن کے ان معنوں پر اطلاع دی جن کو لوگ بھول گئے تھے تا کہ تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے بے خبر گذر گئے اور تاکہ مجرموں پر خدا کی حجت پوری ہو جائے ۔ ان کو کہہ دے کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی وحی اور حکم سے یہ سب باتیں کہتا ہوں اور میں اس زمانہ میں تمام مومنوں میں سے پہلا ہوں ۔ اِن کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہو اس قدر الہامات ہم نے براہین احمدیہ سے بطور اختصار لکھے ہیں ۔ اور چونکہ کئی دفعہ کئی ترتیبوں کے رنگ میں یہ الہامات ہو چکے ہیں ۔ اس لئے فقرات جوڑنے میں ایک خاص ترتیب کا لحاظ نہیں ہر ایک ترتیب فہم ملہم کے مطابق الہامی ہے ۔ منہ