تحفۂ گولڑویہ — Page xl
26 زمانہ تالیف میرے نزدیک تحفہ گولڑویہ ۱۹۰۰ء میں تالیف ہوا۔ابتدائی ضمیمہ تحفہ گولڑویہ جو دراصل اربعین نمبر ۳ ہے وہ ستمبر تا نومبر ۱۹۰۰ء کے درمیانی عرصہ کی تصنیف ہے۔کیون<mark>کہ</mark> اربعین نمبر ۲ جس کے آخر میں ۲۷ ؍ ستمبر ۱۹۰۰ء کی تاریخ درج ہے <mark><mark>اس</mark></mark> کے متعلق حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں:۔’’اربعین نمبر ۲ کے صفحہ ۳۰ پر جو تاریخ انعقاد مجمع قرار دی گئی ہے یعنی ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء وہ <mark><mark>اس</mark></mark> وقت تجویز کی گئی تھی جب<mark>کہ</mark> ہم نے ۷؍ اگست ۱۹۰۰ء کو مضمون لکھ کر کاتب کے سپرد کر دیا تھا۔لیکن <mark><mark>اس</mark></mark> اثناء میں پیر مہر علی شاہ <mark>صاحب</mark> گولڑوی کے ساتھ اشتہارات جاری ہوئے اور رسالہ تحفہ گولڑویہ کے تیار کرنے کی وجہ سے اربعین نمبر ۲ کا چھپنا ملتوی رہا۔<mark><mark>اس</mark></mark> لئے میعاد مذکور ہماری رائے میں اب ناکافی ہے لہٰذا ہم من<mark><mark>اس</mark></mark>ب سمجھتے ہیں <mark>کہ</mark> بجائے ۱۵؍ اکتوبر کے ۲۵ ؍ دسمبر ۱۹۰۰ء قرار دی جائے۔‘‘ (صفحہ ۴۷۸ جلد ہذا بحوالہ ضمیمہ اربعین نمبر ۳ بتاریخ ۲۹؍ ستمبر۱۹۰۰ء) <mark><mark>اس</mark></mark> سے معلوم ہوا <mark>کہ</mark> رسالہ تحفہ گولڑویہ اگست ۱۹۰۰ء میں حضرت اقدسؑ تحریر فرما رہے تھے۔اِسی طرح حضرت اقدسؑ نے بتاریخ ۵ا؍ دسمبر ۱۹۰۰ء جب پیر مہر علی شاہ <mark>صاحب</mark> گولڑوی کو ستّر دن میں سورۃ فاتحہ کی فصیح و بلیغ عربی میں تفسیر لکھنے کے لئے دعوت دی تو <mark><mark>اس</mark></mark> وقت فرمایا:۔’’۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ستّر۷۰ دن تک <mark><mark>اس</mark></mark> کام کے لئے ہم دونوں کو مہلت ہے۔۔۔۔۔۔مَیں <mark><mark>اس</mark></mark> کام کو انشاء اﷲ تحفہ گولڑویہ کی تکمیل کے <mark>بعد</mark> شروع کر دوں گا۔‘‘ (حاشیہ صفحہ ۴۵۰ جلد ہذا بحوالہ اربعین نمبر ۴) چنانچہ <mark><mark>اس</mark></mark> کے مطابق حضرت اقدس کی طرف سے ۲۳؍ فروری ۱۹۰۱ء کو اعجاز المسیح کے نام پر فصیح و بلیغ عربی میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر چھپ کر شائع ہو گئی۔(الحکم ۳؍ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۲ کالم ۳ و الحکم ۱۱؍ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۵ کالم ۱) اِس سے ظاہر ہے <mark>کہ</mark> رسالہ تحفہ گولڑویہ اعجاز المسیح کے لکھنے سے پہلے تیار ہو چکا تھا۔پس یقینی طور پر تسلیم کرنا پڑتا ہے <mark>کہ</mark> تحفہ گولڑویہ کی تالیف کا زمانہ ۱۹۰۰ء ہے گو <mark><mark>اس</mark></mark> کی طباعت و اشاعت میں تاخیر ہو گئی ہو۔اور جس طرح تریاق القلوب چھپ کر پڑی رہی اور آخرکار ایک دو صفحات ۱۹۰۲ء میں لکھ کر وہ شائع کر دی گئی <mark><mark>اس</mark></mark>ی طرح تحفہ گولڑویہ سے متعلق ہوا۔چنانچہ ٹائیٹل پیج اور <mark><mark>اس</mark></mark> کے صفحہ ۲ پر اشتہار انعامی پچ<mark><mark>اس</mark></mark> روپیہ ۱۹۰۲ء میں لکھ کر ۱۹۰۲ء میں شائع کی گئی۔