تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 325

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۲۵ تحفہ گولڑویہ کل فرقے جو دنیا میں موجود ہیں انہی دنوں میں مسیح کے ظہور کا وقت بتلاتے ہیں ۔ اور اس کے نزول کی انتظار کر رہے ہیں۔ بلکہ بعض کے نزدیک اس تاریخ پر جب مسیح دوبارہ آنا بقیه حاشیه اور عیسی بن مریم روح القدس سے اور روح القدس شیطان کی ضد ہے۔ پس جب شیطان کا ظہور ہوا تو اس کا اثر مٹانے کے لئے روح القدس کا ظہور ضروری ہوا۔ جس طرح شیطان بدی کا باپ ہے روح القدس نیکی کا باپ ہے۔ انسان کی فطرت کو دو مختلف جذ بہ لگے ہوئے ہیں (۱) ایک جذبہ بدی کی طرف جس سے انسان کے دل میں بُرے خیالات اور بدکاری اور ظلم کے تصورات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ جذبہ شیطان کی طرف سے ہے اور کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کی فطرت کے لازم حال یہ جذبہ ہے۔ گو بعض تو میں شیطان کے وجود سے انکار بھی کریں لیکن اس جذبہ کے وجود سے انکار نہیں کر سکتے ۔ (۲) دوسرا جذ بہ نیکی کی طرف ہے جس سے انسان کے دل میں نیک خیالات اور نیکی کرنے کی خواہشیں پیدا ہوتی ہیں اور یہ جذبہ روح القدس کی طرف سے ہے۔ اور اگر چہ قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے یہ دونوں قسم کے جذبے انسان میں موجود ہیں ۱۳۴ لیکن آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا کہ پورے زور شور سے یہ دونوں قسم کے جذبے انسان میں ظاہر ہوں ۔ اس لئے اس زمانہ میں بروزی طور پر یہودی بھی پیدا ہوئے اور بروزی طور پر مسیح ابن مریم بھی پیدا ہوا۔ اور خدا نے ایک گروہ بدی کا محرک پیدا کر دیا جو وہی پہلا نحاش بروزی رنگ میں ہے۔ اور دوسرا گر وہ نیکی کا محرک پیدا کر دیا جو مسیح موعود کا گروہ ہے۔ غرض پہلا بروز گروہ نحاش ہے اور دوسرا بروز مسیح اور اس کا گروہ اور تیسرا بروز ان یہودیوں کا گروہ ہے جن سے بچنے کے لئے سورہ فاتحہ میں دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ لے سکھائی گئی اور چوتھا بروزصحابہ رضی اللہ عنہم کا بروز ہے جو بموجب آیت وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے ضروری تھا اور اس حساب سے ان بروزوں کی لاکھوں تک نوبت پہنچتی ہے۔ اس لئے یہ زمانہ رجعت بروزی کا زمانہ کہلاتا ہے۔ منہ الفاتحة : الجمعة :