تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 320

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۲۰ تحفہ گولڑویہ ۱۳۳) رجعت کا جو عقیدہ ہے اُس عقیدہ کے موافق عیسی مسیح کی آمد ثانی کا یہی زمانہ ہے۔ سو قیه حــــــــاشيــــــــــه بة خالق کا ئنات پر دلالت کرے تو اس سے لازم آیا کہ آخری نقاط خلقت بنی آدم کے نقاط اولی سے یعنی جہاں سے نقطہ دائرہ پیدائش بنی آدم شروع ہوتا ہے قریب تر واقع ہوں اور اپنے ظہور اور بروز میں انہی کی طرف رجوع کریں ۔ اور یہی وہ بات ہے جس کو دوسرے لفظوں میں رجعت بروزی کہتے ہیں ۔ جیسا کہ مثلاً یہ دائرہ ہے : ابتدائے خلقت کے خلقت بنی آدم بنائے خلقت بنی آدم بقيــــــــه حـــــاشـيـــــــه فرض کرو کہ اس دائرہ میں سے جو حصہ لام کی دائیں طرف ہے اس سے دائرہ خلقت بنی آدم کا شروع ہوا ہے۔ اور جو حصہ بائیں طرف ہے وہاں ختم ہوا ہے اس لئے ضروری ہے کہ جو لام کے بائیں طرف کا حصہ ہے جو نقاط اس کے قریب آئیں گے وہ ابتدائی نقاط سے بہت ہی نزدیک آجائیں گے ۔ پس اسی کا نام بروزی رجعت ہے جو ہر ایک دائرہ کے لئے ضروری ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ حَرَم عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ - حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ L کو پیدا کر کے سمجھا دیا کہ شقاوت و سعادت پہلے سے ہی فطرت انسان میں تقسیم کی گئی ہے اور نیز آيت أَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ اور آیت الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ اور آیت وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ القيمة اور آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔ یہ تمام آیتیں بتلا رہی ہیں کہ قیامت تک اختلاف رہے گا۔ منعم عليهم بھی رہیں گے۔ مغضوب عليهم بھی رہیں گے۔ ہاں ملل باطلہ دلیل کے رو سے ہلاک ہو جائیں گی ۔ منہ المائدة : ۱۵ - المائدة : ۶۵ ال عمران : ۵۶ الفاتحة : ٧،٦