تحفۂ گولڑویہ — Page 311
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۳۱۱ تحفہ گولڑویہ بلکہ جس طرح سویا ہوا آدمی دوسرے عالم میں چلا جاتا ہے اور اس حالت میں بسا اوقات وفات یافتہ لوگوں سے بھی ملاقات کرتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کشفی حالت میں اس دنیا سے وفات یافتہ کے حکم میں تھے۔ ایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام نے ایک سو بیس برس عمر پائی ہے لیکن ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب اُس وقت حضرت عیسیٰ کو پیش آیا تھا جبکہ آپ کی عمر صرف تینتیس برس اور چھ مہینے کی تھی اور اگر یہ کہا ۱۲۰ جائے کہ باقی ماندہ عمر بعد نزول پوری کر لیں گے تو یہ دعوی حدیث کے الفاظ سے مخالف ہے ماسوا اس کے حدیث سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس ۳۳ برس دنیا میں رہے گا تو اس طرح پر تینتیس برس ملانے سے کل تہتر برس ہوئے نہ ایک سو بیں برس حالانکہ حدیث میں یہ ہے کہ میں یہ ہے کہ ایک سو بیس برس اُن کی عمر ہوئی ۔ ۱۲۰ اور اگر یہ کہو کہ ہماری طرح عیسائی بھی مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں مسیح نے خود اپنی آمد ثانی کو الیاس نبی کی آمد ثانی سے مشابہت دی ہے۔ جیسا کہ انجیل متی کے اباب آیت • ا وا ا ا سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ ماسوا اس کے عیسائیوں میں سے بعض فرقے خود اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے۔ چنانچہ نیولائف آف جیزس جلد اول صفحہ ۴۱۰ مصنفہ ڈی ایف سراس میں یہ عبارت ہے : ( جرمن کے بعض عیسائی محققوں کی رائے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا) Crucifiction they maintain, even if the feet as well as the hands are supposed to have been nailed occasions but very little loss of blood۔ It kills therefore only very slowly