تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 282

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۸۲ تحفہ گولڑویہ حجج الكرامه صفحہ ۴۲۸۔ اس قول سے ظاہر ہے کہ اس جگہ ہزار سے مراد ہزار ششم ہے اور ہزار ششم کے عصر کا وقت اس عاجز کی پیدائش کا زمانہ ہے جو حضرت آدم کی پیدائش کے زمانہ کے مقابل پر ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ آخری زمانہ کا جو ہزار ہے وہ آدم کے چھٹے دن کے مقابل پر ہزار ششم ہے بقيه حاش دونوں ہاتھ سے پیدا کیا ہے ظاہر ہے کہ خدا کے ہاتھ انسان کی طرح نہیں ہیں ۔ پس دونوں ہاتھ سے مراد جمالی اور جلالی تجلتی ہے۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو جلا لی اور جمالی تجلی کا جامع پیدا کیا گیا اور چونکہ اللہ تعالی علمی سلسلہ کو ضائع کرنا نہیں چاہتا اس لئے اُس نے آدم کی پیدائش کے وقت ان ستاروں کی تاثیرات سے بھی کام لیا ہے جن کو اس نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا۔ اور یہ ستارے فقط زینت کے لئے نہیں ہیں جیسا عوام خیال کرتے ہیں بلکہ ان میں تاثیرات ہیں۔ جیسا کہ آیت وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ہے، یعنی حفظ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ یعنی نظام دنیا کی محافظت میں ان ستاروں کو دخل ہے اُسی قسم کا دخل جیسا کہ انسانی صحت میں دوا اور غذا کو ہوتا ہے جس کو الوہیت کے اقتدار میں کچھ دخل نہیں بلکہ جبروت ایزدی کے آگے یہ تمام چیزیں بطور مردہ ہیں۔ یہ چیزیں بجز اذن الہی کچھ نہیں کر سکتیں۔ ان کی تاثیرات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ پس واقعی اور صحیح امر یہی ہے کہ ستاروں میں تاثیرات ہیں جن کا زمین پر اثر ہوتا ہے۔ لہذا اس انسان سے زیادہ تر کوئی دنیا میں جاہل نہیں کہ جو بنفشہ اور نیلوفر اور تر بد اور سقمونیا اور خیار شنبر کی تاثیرات کا تو قائل ہے مگر ان ستاروں کی تاثیرات کا منکر ہے جو قدرت کے ہاتھ کے اول درجہ پر تجلی گاہ اور مظہر العجائب ہیں جن کی نسبت خود خدا تعالیٰ نے حفظا کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ یہ لوگ جو سراپا جہالت میں غرق ہیں اس علمی سلسلہ کو شرک میں داخل کرتے ہیں۔ نہیں جانتے جو دنیا میں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہی ہے جو کوئی چیز اس نے لغو اور بے فائدہ اور بے تاثیر پیدا نہیں کی جبکہ وہ فرماتا ہے کہ ہر ایک ا حم السجدة: ١٣