تحفۂ گولڑویہ — Page 274
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۷۴ تحفہ گولڑویہ ۱۰۶ معرفت تامہ کے حمد تام ہو ہی نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کے محامد دو قسم کے ہیں (۱) ایک وہ جو اس کے ذاتی علو اور رفعت اور قدرت اور تنزہ نام کے متعلق ہیں (۲) دوسرے وہ جن کا اثر از قسم آلاء و نعماء مخلوق پر نمایاں ہے اور جس کو آسمان سے احمد کا نام عطا کیا جاتا ہے اول اُس پر بمقتضائے اسم رحمانیت تواتر سے نزول آلاء اور نعماء ظاہری اور باطنی کا ہوتا ہے اور پھر بوجہ اس کے جو احسان موجب محبت محسن ہے اس شخص کے دل میں اس محسن حقیقی کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر وہ محبت نشو و نما پاتے پاتے ذاتی محبت کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے اور پھر ذاتی محبت سے قرب حاصل ہوتا ہے اور پھر قرب سے انکشاف آدم نے بھی کھایا۔ سو اس سورۃ الناس سے واضح ہوتا ہے کہ یہی نحاش آخری زمانہ میں پھر ظاہر ہوگا اسی نحاش کا دوسرا نام دجال ہے۔ یہی تھا جو آج سے چھ ہزار برس پہلے حضرت آدم کے ٹھوکر کھانے کا موجب ہوا تھا اور اس وقت یہ اپنے اس فریب میں کامیاب ہو گیا تھا اور آدم مغلوب ہو گیا تھا لیکن خدا نے چاہا کہ اسی طرح چھٹے دن کے آخری حصے میں آدم کو پھر پیدا کر کے یعنی آخر ہزار ششم میں جیسا کہ پہلے وہ چھٹے دن میں پیدا ہوا تھا نحاش کے مقابل پر اس کو کھڑا کرے اور اب کی دفعہ نحاش مغلوب ہو اور آدم غالب سوخدا نے آدم کی مانند اس عاجز کو پیدا کیا اور اس عاجز کا نام آدم رکھا ۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے اردت ان استــخـلـف فـخـلـقـت آدم اور نیز یہ الہام خلق آدم فاکرمہ اور نیز یہ الہام کہ یا آدم اسکن انت وزوجك الجنة - اور آدم کی نسبت توریت کے پہلے باب میں یہ آیت ہے : تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بناویں۔ دیکھو تو ریت باب اول آیت ۲۶ ۔ اور پھر کتاب دانی ایل باب نمبر ۱۲ میں لکھا ہے : ۔ اور اُس وقت میکائیل ( جس کا ترجمہ ہے خدا کی مانند ) وہ بڑا سردار جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے اُٹھے گا ۔ ( یعنی مسیح موعود آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا ) پس میکائیل یعنی خدا کی مانند ۔ در حقیقت توریت میں يه حاش يه