تحفۂ گولڑویہ — Page 256
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۵۶ تحفہ گولڑویہ عجیب تریہ بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس وقت نئی شریعت ملی جبکہ پہلی شریعت یہود کی بباعث طرح طرح کی ملونی کے جو اُن کے عقائد میں داخل ہو گئی اور نیز باعث تحریف تبدیل کے بکلی تباہ ہو چکی تھی اور توحید اور خدا پرستی کی جگہ شرک اور دنیا پرستی نے لے لی تھی ۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ سے کھلی کھلی مماثلت ہے اور دونوں نبی یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ دونوں معنوں کے رو سے مہدی ہیں یعنی اس رو سے بھی مہدی کہ خدا سے ان کو نئی شریعت ملی اور نئی ہدایت عطا کی گئی اُس وقت میں جبکہ پہلی ہدایتیں اپنی اصلیت پر باقی نہیں رہی تھیں۔ اور اس رُو سے بھی مہدی ہیں کہ خدا نے دشمنوں کا قلع قمع کر کے کامیابی کی راہوں کی ان کو ہدایت کی اور فتح اور اقبال کی راہیں اُن پر کھول دیں۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ سے بھی دو مشا بہتیں رکھتے ہیں (۱) ایک یہ کہ وہ مسیح کی طرح مکہ میں مخالفوں کے حملوں سے بچائے گئے اور مخالف قتل کے ارادہ میں ناکام رہے (۲) دوسرے یہ کہ آپ کی زندگی زاہدانہ تھی اور آپ بکلی خدا کی طرف منقطع تھے اور آپ کی تمام خوشی اور قرۃ عین صلوٰۃ اور عبادت میں تھی اور ان دونوں صفات کی وجہ سے آپ کا نام احمد تھا یعنی خدا کا سچا پرستار اور اس کے فضل اور رحم کا شکر گذار ۔ اور یہ نام اپنی حقیقت کے رو سے یسوع کے نام کا مترادف ہے اور اس کے یہی معنے ہیں کہ دشمنوں کے حملہ سے اور نیز نفس کے حملہ سے نجات دیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی حضرت عیسی سے مشابہت رکھتی ہے اور مدنی زندگی حضرت موسیٰ سے مشابہ ہے۔ اور چونکہ تکمیل ہدایت کے لئے آپ نے دو بروزوں میں ظہور فرمایا تھا ایک بروز موسوی اور دوسرے بروز عیسوی۔ اور اسی غرض کے لئے ان دونوں ہدایتوں توریت اور انجیل کا قرآن شریف جامع نازل ہوا۔ اور ہر ایک ہدایت کی پابندی اس کے موقع اور حل پر واجب ٹھہرائی گئی اور اس طرح پر ہدایت الہی اپنے کمال تام کو پہنچی اس لئے