تحفۂ گولڑویہ — Page 254
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۵۴ تحفہ گولڑویہ <mark>اس</mark>ی کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور <mark>اس</mark> آیت کے یہی معنے ہیں کہ مہدی معہود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر <mark>احمد</mark> ہے جب مبعوث ہوگا تو <mark>اس</mark> وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر <mark>اس</mark> نام کا مصداق ہے <mark>اس</mark> مجازی <mark>احمد</mark> کے پیرا یہ میں ہو کر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو <mark>اس</mark> سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی یعنی یہ کہ میں <mark>اس</mark>م <mark>احمد</mark> میں <mark>آنحضرت</mark> صلی اللہ علیہ وسلم کا <mark>شریک</mark> ہوں ۔ اور <mark>اس</mark> پر نادان مولویوں نے جیسا کہ اُن کی ہمیشہ سے عادت ہے شور مچایا تھا حالانکہ اگر <mark>اس</mark> سے انکار کیا جائے تو تمام سلسلہ <mark>اس</mark> پیشگوئی کا زیر وزبر ہو جاتا ہے بلکہ قرآن <mark>شریف</mark> کی تکذیب لازم آتی ہے جو نعوذ باللہ کفر تک نوبت پہنچاتی ہے لہذا جیسا کہ مومن کے لئے دوسرے احکام الہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی <mark>اس</mark> بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ <mark>آنحضرت</mark> صلے اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں (۱) ایک بعث محمد کی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ <mark>مریخ</mark> کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن <mark>شریف</mark> میں یہ آیت ہے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ لا (۲) دوسرا بعث <mark>احمد</mark>ی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن <mark>شریف</mark> میں یہ آیت ہے <mark>وَمُبَشِّرًا</mark> <mark>بِرَسُوْلٍ</mark> يَأْتِ مِنْ بَعْدِي <mark>اس</mark>ْمُةَ أَحْمَدُ اور چونکہ <mark>آنحضرت</mark> صلی اللہ علیہ وسلم کو باعتبار اپنی ذات اور اپنے تمام سلسلہ خلفاء کے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ظاہر اور کھلی کھلی مماثلت ہے <mark>اس</mark> لئے خدا تعالیٰ نے بلا و<mark>اس</mark>طہ <mark>آنحضرت</mark> صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ کے رنگ پر مبعوث فرمایا لیکن چونکہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسی سے ایک مخفی اور باریک مماثلت تھی <mark>اس</mark> لئے خدا تعالیٰ نے ایک بروز کے آئینہ میں اُس پوشیدہ مماثلت کا کامل طور پر رنگ دکھلا دیا۔ پس در حقیقت مہدی اور مسیح ہونے کے دونوں جو ہر <mark>آنحضرت</mark> صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود تھے۔ خدا تعالیٰ سے کامل ہدایت پانے کی وجہ سے جس میں کسی <mark>اس</mark>تاد کا انسانوں میں سے احسان نہ تھا <mark>آنحضرت</mark> الفتح : ٣٠ الصف :