تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 204

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۰۴ تحفہ گولڑویہ یہ دعا سکھلائی کہ تم خدا سے پناہ چاہو کہ تم ان یہودیوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسوی سلسلہ کے مسیح موعود کو کا فرٹھہرایا تھا اور اس کی توہین کرتے تھے اور ۷۰ اُن کو گالیاں دیتے تھے اور اس دعا میں صاف اشارہ ہے کہ تم پر بھی یہ وقت آنے والا ہے جوہر سے مناسبت تامہ رکھتے ہیں تاکسی خصوصیت کے دھوکا میں جہلاء اُمت کے کسی نبی کو لا شریک نہ ٹھہرائیں یہ سخت کفر ہے جو کسی نبی کو بلاش کا نام دیا جائے ۔ کسی نبی کا کوئی معجزہ یا اور کوئی خارق عادت امر ایسا نہیں ہے جس میں ہزار ہا اور لوگ شریک نہ ہوں ۔ خدا کو سب سے زیادہ اپنی توحید پیاری ہے۔ توحید کے لئے تو یہ سلسلہ انبیاء علیہم السلام کا خدائے عز و جل نے زمین پر قائم کیا۔ پس اگر خدا کا یہ منشاء تھا کہ بعض صفات ربوبیت سے بعض انسانوں کو مخصوص کیا جائے تو پھر کیوں اس نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی تعلیم کی جس کے لئے عرب کے میدانوں میں ہزار ہا مخلوق پرستوں کے خون بہائے گئے ۔ پس اے دوستو ! اگر تم چاہتے ہو کہ ایمان کو شیطان کے ہاتھ سے بچا کر آخری سفر کرو تو کسی انسان کو فوق العادت خصوصیت سے مخصوص مت کرو کہ یہی وہ گندہ چشمہ ہے جس سے شرک کی نجاستیں جوش مار کر نکلتی ہیں اور انسانوں کو ہلاک کرتی ہیں ۔ پس تم اس سے اپنے آپ کو اور اپنی ذریت کو بچاؤ کہ تمہاری نجات اسی میں ہے ۔ اے عقلمند و ذرا سوچو کہ اگر مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام انیس سو برس سے دوسرے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں اور باوجود یکہ فوت شدہ روحوں کو جاملے اور حضرت یحییٰ کے زانو بزانو ہم نشین ہو گئے پھر بھی اسی جہان میں ہیں اور کسی آخری زمانہ میں جو گو یا اس امت کی ہلاکت کے بعد آئے گا آسمان پر سے اُتریں گے تو شرک سے بچنے کے لئے ایسی فوق العادت صفت کی کوئی نظیر تو پیش کرو یعنی کسی ایسے انسان کا نام لو جو قریباً دو ہزار برس سے آسمان پر چڑھا بیٹھا ہے اور نہ کھاتا نہ پیتا نہ ہوتا اور نہ کوئی اور جسمانی خاصہ ظاہر کرتا اور پھر مجسم ہے اور روحوں کے ساتھ بھی ایسا