تحفۂ گولڑویہ — Page 177
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۷۷ تحفہ گولڑویہ کہ اُس کی ترتیب شائد یہ ہوگی کہ وہ غیر مرئی نورانی وجود جس نے اپنے تئیں اپنی قدیم طاقت کی وجہ سے خواب میں ظاہر کیا تھا کہ میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہوں جو ایک سونے کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کے اِس سونے کے تخت کے قریب مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کی کرسی ہوگی ساتھ ہی میاں عبدالحق غزنوی کی اور اس کے پہلو پر مولوی عبدالجبار صاحب کی کرسی اور اس کرسی سے ملی ہوئی ایک اور کرسی جس پر زینت بخش مولوی عبدالواحد صاحب غزنوی تھے اور کچھ فاصلہ سے مولوی رسل بابا امرتسری کی کرسی تھی۔ اور ان دونوں کرسیوں کے درمیان ایک اور کرسی تھی جس کا اندر سے کچھ اور رنگ تھا اور باہر سے کچھ اور تھوڑی سی تحریک کے ساتھ بھی ہل جاتی تھی اور کچھ ٹوٹی ہوئی بھی تھی یہ کرسی مولوی احمد الله صاحب امرتسری کی تھی اس کرسی کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی بنچ پر میاں چٹو لاہوری بیٹھے ہوئے تھے جو اُس دربار کے شریک تھے ۔ اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی کرسی کے پاس ایک اور کرسی تھی جس پر ایک بڑھا نو رسالہ بیٹھا ہوا تھا جس کو لوگ نذیر حسین کہتے تھے اُس کی کرسی نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو ایک بچہ کی طرح اپنی گود میں لیا ہوا تھا۔ پھر اس کے بعد مولوی محمد اور مولوی عبد العزیز لدھیانوی کی کرسیاں تھیں جن کے اندر سے بڑے زور کے ساتھ آواز ۔ رہی تھی کہ یہ پنجاب کے تمام مولویوں میں سے تکفیر میں بڑے ؟ سے تکفیر میں بڑے بہادر ہیں اور پیغمبر صاحب اس آواز سے بڑے خوش ہو رہے تھے اور بار بار پیار سے اُن کے ہاتھ اور نیز مولوی محمد حسین کے ہاتھ چوم کر کہہ رہے تھے کہ یہ ہاتھ مجھے پیارے معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے ابھی تھوڑے دنوں میں میری اُمت میں سے تیس ہزار آدمی کا نام کافر اور دجال رکھا اور فرماتے تھے کہ یہ سخت غلطی تھی کہ لوگوں ۔ لوں نے ایسا سمجھا ہوا تھا کہ اگر سوا میں سے ننانو ۔ سے ننانوے کفر کے آثار پائے جائیں اور ایک ایمان کا نشان پایا جائے تو پھر اس کو مومن سمجھو بلکہ حق بات یہ ہے کہ جس شخص میں ننانوے نشان ایمان کے پائے جائیں اور ایک نشان کفر کا خیال کیا جائے یا ظن کیا جائے یا بے تحقیق شہرت دی جائے تو اُس کو بلا شبہ کا فر سمجھنا چاہیے یہ فرمایا اور پھر مولوی اور