تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 148

۳۷ روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۴۸ تحفہ گولڑویہ حاشیه در حاشیه چوتھا امر اس بات کا ثابت کرنا ہے کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا چودھویں صدی کے عیسی اور مجدد کا ذکر درمیان آگیا ۔ تب میں نے اُسی تقریب پر ذکر کیا کہ ایک روز ہمارے مرشد حضرت صاحب کوٹھہ والے فرماتے تھے کہ مہدی معہود پیدا ہو گیا ہے لیکن ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ اس بات کو سن کر فضیلت پناه مولوی محمد یحییٰ اخوان زادہ اس بات پر مصر ہوئے کہ اس بیان کو خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر تحریر کر دیں پس میں بحکم آیت وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّةَ أَثِمٌ قَلْبُهُ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں کہ حضرت صاحب کو ٹھہ والے ایک دو سال اپنی وفات سے پہلے یعنی ۲۹۲ اھ یا ۱۲۹۳ھ میں اپنے چند خواص میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہر ایک باب سے معارف اور اسرار میں گفتگو شروع تھی ناگاہ مہدی معہود کا تذکرہ درمیان آگیا فرمانے لگے کہ مہدی معہود پیدا ہو گیا ہے مگر ابھی ظاہر نہیں ہوا ہے اور قسم بخدا کہ یہی اُن کے کلمات ۔ تھے۔ اور میں نے سچ سچ بیان کیا ہے نہ ہوائے نفس سے اور بجز اظہار حق اور کوئی غرض درمیان نہیں۔ اُن کے منہ سے یہ الفاظ افغانی زبان میں نکلے تھے : چہ مہدی پیدا شوے دے او وقت و نوے وے او وقت و ظہور ندئے ، یعنی مہدی موعود پیدا ہو گیا ہے لیکن ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ بعد اس کے حضرت موصوف نے سلخ ذی الحجہ ۱۲۹۴ ہجری میں وفات پائی۔ ایسا ہی ایک اور بزرگ گلاب شاہ نامی موضع جمال پور ضلع لودیا نہ میں گذرے ہیں جن کے خوارق اس طرف بہت مشہور ہیں ۔ انہوں نے چند لوگوں کے پاس اپنا یہ کشف بیان کیا جن میں سے ایک بزرگ کریم بخش نامی ( خدا ان کو غریق رحمت کرے) پر ہیز گار موحد معمر سفید ریش کو میں نے دیکھا ہے ۔ اور انہوں نے نہایت رقت سے چشم پر آب ہو کر کئی جلسوں میں میرے رو برواس زمانہ ☆ میاں کریم بخش ساکن جمال پور ضلع لدھیانہ نے میاں گلاب شاہ مجذوب کی اس پیشگوئی کو بڑے بڑے ۵۰ ۵۰ مسلمانوں کے جلسہ میں بیان کیا تھا چنانچہ ایک دفعہ قریباً سات سو آدمی کے جلسہ میں قادیاں میں بیان کیا اور میرے خیال میں انہوں نے لدھیانہ میں کم سے کم دس ہزار آدمی کو اس سے اطلاع دی ہو گی مجھے کئی مہینوں تک لدھیانہ میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ میاں کریم بخش موضع جمال پور سے چند روز کے بعد ضرور آتے تھے اور بسا اوقات پچاس پچاس آدمی کے رو برو رو کر یہ پیشگوئی بیان کرتے تھے اور یہ لازمی امر تھا کہ بیان کرنے کے وقت بات کے کسی نہ کسی محل پر ان کے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔ مولوی محمد احسن صاحب رئیس لدھیانہ نے بھی یہ پیشگوئی اُن کے منہ سے سنی تھی۔ الدھیانہ میں یہ پیشگوئی بہت شہرت یافتہ ہے اور ہزاروں انسان گواہ ہیں۔ منہ البقرة: ۲۸۴